@caroline.ellesw: #16 #birthday #dinner

caroline.ellesw
caroline.ellesw
Open In TikTok:
Region: US
Friday 02 October 2026 00:35:58 GMT
5840
798
12
12

Music

Download

Comments

audrey.lippi
audrey :
where is your top from
2026-10-02 05:17:03
0
hope_spamzz2
hope_spamzz :
what do you use to curl your hair?
2026-10-02 00:47:30
3
lucybrink01
lucyyy :
omggg i love your hairrrr you should do a curl tut
2026-10-02 00:43:46
0
owenpark261
op :
You’re very beautiful
2026-10-02 03:40:40
0
ellaaagrace14
ella :
Stunning
2026-10-02 02:44:57
0
grace..sandherr
grace 💗 :
so gorgeous
2026-10-02 02:32:51
0
lucy131010
l u c y💝 :
gorgeous
2026-10-02 00:38:46
0
ellasindledecker
ella :
Cutest b day girl
2026-10-02 00:56:31
0
quinn_main12
quinn_main :
cutest birthday gurlll
2026-10-02 03:06:55
0
orge20004
George canizales viva ecuador :
porqué no parpadeas te vez rara en tus videos 🥰👍
2026-10-02 00:49:52
0
maryjane.west0
Mj West :
slay
2026-10-02 03:09:50
0
luckyyyylukkkeyyy
LukeyyyG :
You can ring my bell anytime!
2026-10-02 03:20:01
0
To see more videos from user @caroline.ellesw, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اب رخ کرتے ہیں میہڑ کا جہاں سے ہمیں جوائن کیا ہے تحصیل رپوٹر اے ون نیوز عبدالحمید کھوسو نے، میہڑ کے قریب حاصل کھوسو میں چانڈیو برادری کے جھگڑے کا معاملہ، ورثاء خواتین کا قرآن پاک اٹھا کر احتجاج، میہڑ: بی سیکشن تھانے کی حدود گاؤں حاصل کھوسو میں چند روز قبل چانڈیو برادری کے ماموں بھانجوں کے درمیان معمولی بات پر ہونے والے جھگڑے میں قتل ہونے والے سجاد عرف جج چانڈیو اور دو روز بعد مبینہ زخمی حالت میں جاں بحق ہونے والے امتیاز علی چانڈیو کے معاملے پر مقتول سجاد چانڈیو کے ورثاء خواتین نے احتجاج کیا۔ مقتول سجاد عرف جج چانڈیو کی ورثاء خواتین نظیران چانڈیو، وحیدہ چانڈیو، افشان چانڈیو اور دیگر نے قرآن پاک اٹھا کر احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے عزیزوں غلام مصطفیٰ چانڈیو، واحد بخش چانڈیو، امتیاز علی چانڈیو اور دیگر کے حملے میں قتل ہونے والے سجاد عرف جج چانڈیو کے قتل کی ایف آئی آر پولیس نے درست طور پر درج نہیں کی۔ خواتین کا کہنا تھا کہ مقتول کی والدہ نظیران چانڈیو کے ناخواندہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس نے اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کی، جبکہ جائے وقوعہ سے گرفتار کیے گئے امتیاز علی چانڈیو سمیت تین ملزمان کی گرفتاری بھی ظاہر نہیں کی گئی۔ مظاہرین نے کہا کہ جھگڑے میں زخمی ہونے والا امتیاز علی چانڈیو اور دیگر افراد خود موبائل فون پر سوار ہو کر اسپتال گئے تھے اور اس وقت امتیاز کی حالت بھی بہتر تھی، تاہم دو روز بعد اس کی مبینہ زخمی حالت میں موت واقع ہونے سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امتیاز چانڈیو کی موت کے واقعے کو نیا رخ دے کر ان کے مردوں کے خلاف کسی دوسرے مقام پر ہونے والے جھگڑے کی الگ اور مبینہ جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے ایس ایس پی دادو، ڈی آئی جی حیدرآباد، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ دونوں واقعات کی ازسرِنو شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سجاد چانڈیو کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ان کے مردوں کے خلاف درج مبینہ جھوٹی ایف آئی آر ختم کی جائے۔ خواتین نے خبردار کیا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
اب رخ کرتے ہیں میہڑ کا جہاں سے ہمیں جوائن کیا ہے تحصیل رپوٹر اے ون نیوز عبدالحمید کھوسو نے، میہڑ کے قریب حاصل کھوسو میں چانڈیو برادری کے جھگڑے کا معاملہ، ورثاء خواتین کا قرآن پاک اٹھا کر احتجاج، میہڑ: بی سیکشن تھانے کی حدود گاؤں حاصل کھوسو میں چند روز قبل چانڈیو برادری کے ماموں بھانجوں کے درمیان معمولی بات پر ہونے والے جھگڑے میں قتل ہونے والے سجاد عرف جج چانڈیو اور دو روز بعد مبینہ زخمی حالت میں جاں بحق ہونے والے امتیاز علی چانڈیو کے معاملے پر مقتول سجاد چانڈیو کے ورثاء خواتین نے احتجاج کیا۔ مقتول سجاد عرف جج چانڈیو کی ورثاء خواتین نظیران چانڈیو، وحیدہ چانڈیو، افشان چانڈیو اور دیگر نے قرآن پاک اٹھا کر احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے عزیزوں غلام مصطفیٰ چانڈیو، واحد بخش چانڈیو، امتیاز علی چانڈیو اور دیگر کے حملے میں قتل ہونے والے سجاد عرف جج چانڈیو کے قتل کی ایف آئی آر پولیس نے درست طور پر درج نہیں کی۔ خواتین کا کہنا تھا کہ مقتول کی والدہ نظیران چانڈیو کے ناخواندہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس نے اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کی، جبکہ جائے وقوعہ سے گرفتار کیے گئے امتیاز علی چانڈیو سمیت تین ملزمان کی گرفتاری بھی ظاہر نہیں کی گئی۔ مظاہرین نے کہا کہ جھگڑے میں زخمی ہونے والا امتیاز علی چانڈیو اور دیگر افراد خود موبائل فون پر سوار ہو کر اسپتال گئے تھے اور اس وقت امتیاز کی حالت بھی بہتر تھی، تاہم دو روز بعد اس کی مبینہ زخمی حالت میں موت واقع ہونے سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امتیاز چانڈیو کی موت کے واقعے کو نیا رخ دے کر ان کے مردوں کے خلاف کسی دوسرے مقام پر ہونے والے جھگڑے کی الگ اور مبینہ جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے ایس ایس پی دادو، ڈی آئی جی حیدرآباد، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ دونوں واقعات کی ازسرِنو شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سجاد چانڈیو کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ان کے مردوں کے خلاف درج مبینہ جھوٹی ایف آئی آر ختم کی جائے۔ خواتین نے خبردار کیا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

About