@w.wxr_: #foryoupage #him #like #viral #trend

★
★
Open In TikTok:
Region: US
Monday 05 October 2026 23:06:14 GMT
416
94
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @w.wxr_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لانگ مارچ بالقسط - تیسرا دن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کوہاٹ روانگی کے موقع پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کے غیرت مند عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے جوش و جذبے کو سلام پیش کیا۔ کہا کہ یہ وہ جذبہ اور حب الوطنی ہے جسے ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کارکنان سے کہا کہ ان کا وزیراعلیٰ کسی سے نہیں ڈرتا اور پختونخوا کے جوان بھی کسی سے نہیں ڈرتے۔  اپنے مطالبات کا مسودہ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔ پاکستانیو کو معلوم ہے کہ لانگ مارچ پر کیوں مجبور ہوئے؛ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہر دروازہ کھٹکھٹایا اور تمام جمہوری، آئینی و قانونی راستے اختیار کیے، بار بار پوچھا کہ اب کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے۔  جعلی وزیراعظم سے فون پر عمران خان سے ملاقات کرانے کا کہا، جس پر جواب ملا کہ پوچھ کر بتاؤں گا۔ صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے حق میں قرارداد منظور ہوئی، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی، مگر ملاقات نہ ہوئی۔ ان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سلام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔  سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرانے کا حکم دیا، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ جہاں انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے، وہاں آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ اسی لیے جنوبی ریجن سے پرامن احتجاج شروع کیا، نہتے اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔  عمران خان کا علاج اور ملاقات غیر آئینی نہیں، انصاف کے ذریعے رہائی غیر آئینی نہیں؛ ججز کیسز کیوں نہیں سن رہے، کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے۔ ان کے مطابق عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، بلکہ پاکستان اور دنیا کی طاقتور قوتوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا، اسی وجہ سے جیل میں ہیں۔  کہ عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ عناصر انہیں باہر نہیں آنے دینا چاہتے۔  عدالتیں، اسمبلیاں اور ادارے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چلتے ہیں، اس لیے راج بھی عوام کا ہونا چاہیے۔ اگر عدالتیں انصاف نہیں کریں گی تو عوام سڑکوں پر انصاف کریں گے۔ عوام نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جب پورا صوبہ و ملک نکلے گا تو کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔  ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت سے مسائل حل کرنے کی بات کی، مگر سیاسی مذاکرات کے دوران اپنی کرسی بچانے کے لیے پشتون کے سر کا سودا کرنے کی سوچ ناقابلِ قبول ہے۔ پختونوں کے سر کا سودا نہ پہلے قبول تھا، نہ اب ہے اور نہ کبھی ہوگا۔  عوام چاہتی ہے کہ مسائل صوبائی حکومت کی پالیسی سے حل ہوں، اس لیے وہ پالیسی دے رہے ہیں۔ 22 سال سے آپریشن پر آپریشن اور ڈرون پر ڈرون ہو رہے ہیں مگر دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی پالیسی سے 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔  خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان کے لیے 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں مبینہ طور پر بھارت کے بجائے دیگر تین صوبوں سے خطرے کی بات کی گئی۔ انہوں نے کارکنان کو خبردار کیا کہ انتشار کی طرف لے جانے کی کوششیں ہوں گی، مگر سب نے پرامن رہنا ہے۔  لانگ مارچ کا پلان پہلے پشاور کا تھا، مگر اب پہلے خیبر جائیں گے اور اس کے بعد پشاور جائیں گے۔ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے پر ہونے والی پریس کانفرنسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اسلام آباد جانے کا فیصلہ کریں گے تو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ان کے مطابق انہیں تکلیف 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے اور اب ٹیسٹ میچ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ 2018 سے 2022 تک یہاں امن تھا اور عمران خان کسی کی غلامی نہیں کر رہے تھے۔  عمران خان کو باہر لانا اور وزیراعظم بنانا ہے، عمران خان وزیراعظم ہوں گے تو ترقی اور خوشحالی بھی آئے گی۔ ان کے مطابق موجودہ دور ختم ہونے والا ہے اور نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اگر عمران خان کو کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ ذمہ دار براہِ راست ذمہ دار ہوں گے۔
لانگ مارچ بالقسط - تیسرا دن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کوہاٹ روانگی کے موقع پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کے غیرت مند عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے جوش و جذبے کو سلام پیش کیا۔ کہا کہ یہ وہ جذبہ اور حب الوطنی ہے جسے ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کارکنان سے کہا کہ ان کا وزیراعلیٰ کسی سے نہیں ڈرتا اور پختونخوا کے جوان بھی کسی سے نہیں ڈرتے۔ اپنے مطالبات کا مسودہ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔ پاکستانیو کو معلوم ہے کہ لانگ مارچ پر کیوں مجبور ہوئے؛ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہر دروازہ کھٹکھٹایا اور تمام جمہوری، آئینی و قانونی راستے اختیار کیے، بار بار پوچھا کہ اب کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے۔ جعلی وزیراعظم سے فون پر عمران خان سے ملاقات کرانے کا کہا، جس پر جواب ملا کہ پوچھ کر بتاؤں گا۔ صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے حق میں قرارداد منظور ہوئی، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی، مگر ملاقات نہ ہوئی۔ ان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سلام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرانے کا حکم دیا، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ جہاں انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے، وہاں آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ اسی لیے جنوبی ریجن سے پرامن احتجاج شروع کیا، نہتے اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ عمران خان کا علاج اور ملاقات غیر آئینی نہیں، انصاف کے ذریعے رہائی غیر آئینی نہیں؛ ججز کیسز کیوں نہیں سن رہے، کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے۔ ان کے مطابق عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، بلکہ پاکستان اور دنیا کی طاقتور قوتوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا، اسی وجہ سے جیل میں ہیں۔ کہ عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ عناصر انہیں باہر نہیں آنے دینا چاہتے۔ عدالتیں، اسمبلیاں اور ادارے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چلتے ہیں، اس لیے راج بھی عوام کا ہونا چاہیے۔ اگر عدالتیں انصاف نہیں کریں گی تو عوام سڑکوں پر انصاف کریں گے۔ عوام نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جب پورا صوبہ و ملک نکلے گا تو کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت سے مسائل حل کرنے کی بات کی، مگر سیاسی مذاکرات کے دوران اپنی کرسی بچانے کے لیے پشتون کے سر کا سودا کرنے کی سوچ ناقابلِ قبول ہے۔ پختونوں کے سر کا سودا نہ پہلے قبول تھا، نہ اب ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ عوام چاہتی ہے کہ مسائل صوبائی حکومت کی پالیسی سے حل ہوں، اس لیے وہ پالیسی دے رہے ہیں۔ 22 سال سے آپریشن پر آپریشن اور ڈرون پر ڈرون ہو رہے ہیں مگر دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی پالیسی سے 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان کے لیے 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں مبینہ طور پر بھارت کے بجائے دیگر تین صوبوں سے خطرے کی بات کی گئی۔ انہوں نے کارکنان کو خبردار کیا کہ انتشار کی طرف لے جانے کی کوششیں ہوں گی، مگر سب نے پرامن رہنا ہے۔ لانگ مارچ کا پلان پہلے پشاور کا تھا، مگر اب پہلے خیبر جائیں گے اور اس کے بعد پشاور جائیں گے۔ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے پر ہونے والی پریس کانفرنسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اسلام آباد جانے کا فیصلہ کریں گے تو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ان کے مطابق انہیں تکلیف 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے اور اب ٹیسٹ میچ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ 2018 سے 2022 تک یہاں امن تھا اور عمران خان کسی کی غلامی نہیں کر رہے تھے۔ عمران خان کو باہر لانا اور وزیراعظم بنانا ہے، عمران خان وزیراعظم ہوں گے تو ترقی اور خوشحالی بھی آئے گی۔ ان کے مطابق موجودہ دور ختم ہونے والا ہے اور نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اگر عمران خان کو کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ ذمہ دار براہِ راست ذمہ دار ہوں گے۔

About