@project_ninetyseven: Mumpung masih ada stoknya langsung amanin checkout di keranjang kuning bawah👌🏼

projectninetyseven
projectninetyseven
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 06 October 2026 14:28:00 GMT
3977
10
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @project_ninetyseven, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا یہ بیانیہ کبھی پشتون کے اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ہر بار کسی اور کے ایجنڈے کی خدمت کے لیے استعمال ہوا کبھی جہاد کے نام پر، کبھی ریاستی پالیسی کے نام پر، کبھی سیاسی جلسوں کے نام پر۔ نتیجہ کیا نکلا؟ پشتون علاقے سب سے زیادہ تباہ ہوئے، سب سے زیادہ جانیں گئیں اور سب سے کم ترقی ملی۔ دیکھو تاریخ کے اوراق افغان جہاد کے دوران لاکھوں پشتون بے گھر ہوئے، نسلیں تباہ ہوئیں، منشیات اور ہتھیاروں کا کلچر پھیل گیا۔ کام نکل گیا تو وہی لوگ جو کل مجاہد کہہ کر سراہتے تھے، اگلے دن انہیں دہ'شت گرد قرار دے بیٹھے۔ کشمیر کے محاذ پر بھی وہی کھیل کھیلا گیا۔ جو نوجوان جذبات میں بہہ کر گئے، ان میں سے کتنوں کی لاشیں واپس آئیں؟ اور جو واپس آئے، انہیں معاشرے میں کیا مقام ملا؟ آج پھر وہی پرانا کارڈ نئے ہاتھوں میں ہے۔ سیاسی جلسوں میں غیرت، قربانی اور مزاحمت کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ مگر پوچھو تو جواب نہیں ملتا کہ اس قربانی کا فائدہ آخر کسے پہنچے گا؟ کیا اس سے پختونخوا کے اسکول بہتر ہوں گے؟ کیا بے روزگاری کم ہوگی؟ کیا گمشدہ افراد کا حساب کتاب ہوگا؟ یا صرف ایک سیاسی بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے پھر سے خون بہے گا؟ سب سے بڑی بدنیتی یہ ہے کہ یہ بیانیہ پشتون کو سوچنے نہیں دیتا۔ اسے صرف غیرت مند بنا کر میدان میں اتارا جاتا ہے۔ سوال کرنے والا کمزور، ڈرپوک یا باہر کا ایجنٹ قرار پا جاتا ہے حالانکہ اصل غیرت تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل بچاؤ، اپنی زمین کے حقوق مانگو اور ہر اس قوت کو جواب دو جو تمہیں صرف اپنے کام نکالنے کے لیے یاد کرتی ہے۔ اب فیصلہ پشتونوں کا ہے یا تو پھر سے کسی کے ایجنڈے کی ایندھن بنو، یا اس بار اپنی خاطر کھڑے ہو جاؤ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم صرف دوسروں کے جنگوں میں مرتي رہی، وہ کبھی اپنا حصہ وصول نہیں کر سکی۔ . . . . . #khizarsreflections #politicalawareness #trendingreels #socialawareness #viralreels
حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا یہ بیانیہ کبھی پشتون کے اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ہر بار کسی اور کے ایجنڈے کی خدمت کے لیے استعمال ہوا کبھی جہاد کے نام پر، کبھی ریاستی پالیسی کے نام پر، کبھی سیاسی جلسوں کے نام پر۔ نتیجہ کیا نکلا؟ پشتون علاقے سب سے زیادہ تباہ ہوئے، سب سے زیادہ جانیں گئیں اور سب سے کم ترقی ملی۔ دیکھو تاریخ کے اوراق افغان جہاد کے دوران لاکھوں پشتون بے گھر ہوئے، نسلیں تباہ ہوئیں، منشیات اور ہتھیاروں کا کلچر پھیل گیا۔ کام نکل گیا تو وہی لوگ جو کل مجاہد کہہ کر سراہتے تھے، اگلے دن انہیں دہ'شت گرد قرار دے بیٹھے۔ کشمیر کے محاذ پر بھی وہی کھیل کھیلا گیا۔ جو نوجوان جذبات میں بہہ کر گئے، ان میں سے کتنوں کی لاشیں واپس آئیں؟ اور جو واپس آئے، انہیں معاشرے میں کیا مقام ملا؟ آج پھر وہی پرانا کارڈ نئے ہاتھوں میں ہے۔ سیاسی جلسوں میں غیرت، قربانی اور مزاحمت کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ مگر پوچھو تو جواب نہیں ملتا کہ اس قربانی کا فائدہ آخر کسے پہنچے گا؟ کیا اس سے پختونخوا کے اسکول بہتر ہوں گے؟ کیا بے روزگاری کم ہوگی؟ کیا گمشدہ افراد کا حساب کتاب ہوگا؟ یا صرف ایک سیاسی بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے پھر سے خون بہے گا؟ سب سے بڑی بدنیتی یہ ہے کہ یہ بیانیہ پشتون کو سوچنے نہیں دیتا۔ اسے صرف غیرت مند بنا کر میدان میں اتارا جاتا ہے۔ سوال کرنے والا کمزور، ڈرپوک یا باہر کا ایجنٹ قرار پا جاتا ہے حالانکہ اصل غیرت تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل بچاؤ، اپنی زمین کے حقوق مانگو اور ہر اس قوت کو جواب دو جو تمہیں صرف اپنے کام نکالنے کے لیے یاد کرتی ہے۔ اب فیصلہ پشتونوں کا ہے یا تو پھر سے کسی کے ایجنڈے کی ایندھن بنو، یا اس بار اپنی خاطر کھڑے ہو جاؤ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم صرف دوسروں کے جنگوں میں مرتي رہی، وہ کبھی اپنا حصہ وصول نہیں کر سکی۔ . . . . . #khizarsreflections #politicalawareness #trendingreels #socialawareness #viralreels

About