@john.mcclane289: #park #forest #naturelover #usa🇺🇸

John McClane
John McClane
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 06 October 2026 19:53:42 GMT
99
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @john.mcclane289, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#🥀🥀 نہ جانے میرے اندر کون سا موسم ٹھہر گیا ہے، باہر سب کچھ اپنی جگہ ہے، مگر میرے اندر سے وقت گزرنے کا احساس ہی اٹھ گیا ہے۔ میں ہنستا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانی عادت کو نبھا رہا ہوں، خاموش ہوتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں یہی میری آواز رہ گئی ہے۔ کبھی سوچتا ہوں، اتنی سی عمر میں اتنا تھک جانا بھی کوئی بات ہے؟ ابھی تو زندگی کے وہ دن آنے تھے جنہیں یاد کر کے بڑھاپے میں مسکرانا تھا، مگر میں آج ہی اپنے گزرے ہوئے کل کا سوگ لیے بیٹھا ہوں۔ کچھ خواہشیں پوری نہ ہوئیں، کچھ دعائیں لوٹ آئیں، اور کچھ احساسات ایسے تھے جنہیں دفن کرنے کے لیے کوئی قبر نہیں ہوتی۔ بس دل کے ایک کونے میں وہ سب آج بھی سانس لیتا ہے، اور میں روزمرہ کی زندگی اوڑھ کر خود کو یہ سمجھاتا رہتا ہوں کہ میں ٹھیک ہوں۔ مگر سچ یہ ہے میں زندگی سے ہارا نہیں، بس زندگی جینے سے پہلے ہی اسے بہت زیادہ سمجھنے لگا ہوں۔ مجھے اب اپنے ہی دن اجنبی لگتے ہیں، جیسے میں ان میں موجود تو ہوں مگر میرا کوئی حصہ ان میں رہتا نہیں۔ نہ کوئی بڑا حادثہ ہوا، نہ زندگی نے کوئی شور مچایا بس کچھ چیزیں خاموشی سے مجھ سے چھن گئیں، اور میں ہر روز تھوڑا سا کم ہوتا گیا کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری زندگی مجھے چھوڑ کر نہیں گئی، بلکہ میں ہی اپنی زندگی سے آہستہ آہستہ الگ ہوتا چلا گیا ہوں اب تو عجیب حال ہے؛ دن گزرتا ہے تو افسوس ہوتا ہے، رات آتی ہے تو پچھلے دن کا حساب کھل جاتا ہے۔ اور میں سوچتا رہتا ہوں یہ جو عمر ہاتھ سے نکل رہی ہے، کیا اسے بھی کبھی خبر ہوگی کہ میں اسے جینے کے بجائے صرف برداشت کرتا رہا۔
#🥀🥀 نہ جانے میرے اندر کون سا موسم ٹھہر گیا ہے، باہر سب کچھ اپنی جگہ ہے، مگر میرے اندر سے وقت گزرنے کا احساس ہی اٹھ گیا ہے۔ میں ہنستا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانی عادت کو نبھا رہا ہوں، خاموش ہوتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں یہی میری آواز رہ گئی ہے۔ کبھی سوچتا ہوں، اتنی سی عمر میں اتنا تھک جانا بھی کوئی بات ہے؟ ابھی تو زندگی کے وہ دن آنے تھے جنہیں یاد کر کے بڑھاپے میں مسکرانا تھا، مگر میں آج ہی اپنے گزرے ہوئے کل کا سوگ لیے بیٹھا ہوں۔ کچھ خواہشیں پوری نہ ہوئیں، کچھ دعائیں لوٹ آئیں، اور کچھ احساسات ایسے تھے جنہیں دفن کرنے کے لیے کوئی قبر نہیں ہوتی۔ بس دل کے ایک کونے میں وہ سب آج بھی سانس لیتا ہے، اور میں روزمرہ کی زندگی اوڑھ کر خود کو یہ سمجھاتا رہتا ہوں کہ میں ٹھیک ہوں۔ مگر سچ یہ ہے میں زندگی سے ہارا نہیں، بس زندگی جینے سے پہلے ہی اسے بہت زیادہ سمجھنے لگا ہوں۔ مجھے اب اپنے ہی دن اجنبی لگتے ہیں، جیسے میں ان میں موجود تو ہوں مگر میرا کوئی حصہ ان میں رہتا نہیں۔ نہ کوئی بڑا حادثہ ہوا، نہ زندگی نے کوئی شور مچایا بس کچھ چیزیں خاموشی سے مجھ سے چھن گئیں، اور میں ہر روز تھوڑا سا کم ہوتا گیا کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری زندگی مجھے چھوڑ کر نہیں گئی، بلکہ میں ہی اپنی زندگی سے آہستہ آہستہ الگ ہوتا چلا گیا ہوں اب تو عجیب حال ہے؛ دن گزرتا ہے تو افسوس ہوتا ہے، رات آتی ہے تو پچھلے دن کا حساب کھل جاتا ہے۔ اور میں سوچتا رہتا ہوں یہ جو عمر ہاتھ سے نکل رہی ہے، کیا اسے بھی کبھی خبر ہوگی کہ میں اسے جینے کے بجائے صرف برداشت کرتا رہا۔

About