@rauwglez: Clips de hormi @Hormiga Gonzalez @Selección Nacional #seleccionmexicana #hormigagonzalez #armandogonzalez #fyp

:)
:)
Open In TikTok:
Region: MX
Wednesday 07 October 2026 02:48:22 GMT
23957
10786
18
593

Music

Download

Comments

h_ggstar
h_ggstar :
a cuánto lo venden, pa regresarlo a chivas y que no se regrese a grecia
2026-10-07 04:53:18
158
kaka_22_mila1
✨💫🐜💫✨ :
me puedes pasar el primer clip plis
2026-10-08 03:40:20
0
holass438
💗🫶🏻 :
Amiga me puedes pasar el video pliss
2026-10-07 03:21:26
7
luciisabela_30167
Luci Arriaga291 :
lo guapo que se veía 💓💓
2026-10-07 16:56:04
5
kaedehara_koko6
Matteos :
Es irreal
2026-10-07 05:25:28
48
pelotitas666
⋆°݊Pelotitas deidad (≧∇≦)/⌗! :
esk es tan kiut lo amo
2026-10-07 03:01:14
66
_4m4nd4_10
Amandaa🤎 :
Bye lo amo
2026-10-07 03:28:17
5
_isavlsb
𝓘𝓈𝒶 ۶ৎ :
JAJAJAJJA💗😭
2026-10-07 07:22:07
4
luis_alberto2731
✨️@𝕝𝕦𝟙𝕤.𝕔𝕙𝕧𝕫.😘🐜✨️ :
entonces ya se va
2026-10-07 07:44:56
1
kimimelgar23
Kimberly :
😍
2026-10-07 13:25:26
0
ruby_meza55
ruby :
2026-10-07 05:07:19
0
15_10_103
{🌀_k𝒶𝓂𝒾 Y𝒾Y𝒾 ³🐜🥥} :
Papá ?
2026-10-07 06:01:24
0
samy34727
samy💕 :
Y si nos vamos para Grecia
2026-10-07 05:07:28
0
yaya_carrv
Karla :
2026-10-07 05:23:24
0
eli_liv22
𝓮𝓵𝓲 🪽 :
2026-10-07 19:46:55
0
_vsrcdrtz
Samara :
😍😍😍
2026-10-07 22:00:46
0
To see more videos from user @rauwglez, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

‏آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی⁦ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔  ‏ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ ‏انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ‏ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ ‏جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ ‏وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ ‏انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ ‏وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ ‏یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ‏سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ ‏تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ ‏عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔  ‏عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔
‏آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی⁦ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔ ‏ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ ‏انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ‏ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ ‏جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ ‏وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ ‏انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ ‏وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ ‏یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ‏سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ ‏تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ ‏عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ ‏عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔

About