@kimbrandel: EMATU DENTAL CLINIC ndiyo suluhisho lako la kinywa na meno tell:0673924941 0753005062 tangazo mwishoni mwa post 🙏🏾🇹🇿@@smilesubi #kindness #humanity #Love #kind #kindness @

unlimited life💫
unlimited life💫
Open In TikTok:
Region: TZ
Wednesday 07 October 2026 09:40:22 GMT
113035
4598
31
50

Music

Download

Comments

stevekasam
kasam Steve :
just asking what's the name of the song please
2026-10-08 13:20:30
4
mr_u_fresh1
MR U FRESH🍼 :
japokuwa ni ai Wacha niwe wa pili Leo kukomenti [Pray][Snicker]
2026-10-07 09:47:59
2
george.ayubu4
George Ayubu :
pamoja kaka
2026-10-09 12:05:06
1
user4068150829432
Edson Lydia :
amen
2026-10-09 11:30:35
1
jeremiekahindo
Jeremie Kahindo :
titre ya nyimbo svp
2026-10-08 13:28:26
2
user39262514033386sheb
sheby lushu :
unatisha
2026-10-08 15:35:40
1
delphinetembo3
delphinetembo201 :
vraiment
2026-10-08 19:38:19
1
erci.simion
Erci Simion :
ameni
2026-10-09 19:17:53
0
bernadomalesi
Bernado Mchelsea :
utaniua na mafunzo ndungu yanje
2026-10-09 16:04:23
0
user93380506146393
Mélanie bolaka :
mais tu fais ça comment ?
2026-10-10 06:13:14
0
reaganlenge0
REAGAN LENGE :
merci beaucoup
2026-10-09 18:11:36
0
shafiiq09
byaruhangashafiiqtiktok.com/@s :
Amen
2026-10-08 06:20:56
1
forberance1
@smilesubi :
mje sasa tuwape tabasamu
2026-10-07 09:42:16
0
jeremiekahindo
Jeremie Kahindo :
n'a mwenye aliimbaka
2026-10-08 13:28:37
0
user3627301295272
user3627301295272 :
umakwana
2026-10-08 16:22:18
0
patricktazongandu
patricktazongandu :
quelques fois le malheur est bon
2026-10-08 10:07:19
0
wiskesfyson
wiskes fayson :
🥰🥰🥰
2026-10-07 10:50:52
0
philipoorkedenye
Philipo Orkedenye :
😆😁
2026-10-08 14:06:23
0
carolinechep94
memo :
🥰🥰🥰
2026-10-09 15:55:45
0
user2181602344625
user2181602344625 :
[Prière][Prière]
2026-10-08 17:26:47
0
user9250361318367
Naomie Kaseya :
🙏🙏🙏🙏
2026-10-08 13:55:34
0
atwooki.abooki
Atwooki $ Abooki :
😂😂😂
2026-10-07 15:48:33
0
kabompo_problem8
kabompo problem 🇿🇲🇨🇩🇦🇴 :
🥰🥰🥰
2026-10-08 20:09:17
0
uziyech
Ziyech kim :
🥰🥰🥰
2026-10-07 09:47:59
0
user8302181327612
Emmanuel E.M :
🥰🥰🥰
2026-10-09 16:35:50
0
To see more videos from user @kimbrandel, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا شبقدر چوک چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب 11 اکتوبر کو پورے پاکستان کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دیتا ہوں، 13 اکتوبر کو پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، 13 اکتوبر کو ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ کوہاٹ ڈویژن کے قافلے بھی صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ پر مارچ میں شامل ہوں گے۔ عمران خان کے دور حکومت 2018 سے 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن اور خوشحالی تھی، عمران خان کے دور میں پاکستان کے تمام معاشی اشاریے مثبت تھے۔ عمران خان کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے دور میں صنعت، زراعت اور برآمدات ترقی کر رہی تھیں۔حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر پاکستان کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔ آج سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پاکستان دنیا میں سرفہرست آچکا ہے، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج آج پاکستان بھگت رہا ہے، 2004 سے 2026 تک پاکستان میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے۔ ان کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ختم کرنا ہے، پاکستان میں پہلا فوجی آپریشن 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا بلوچستان آپریشن کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ چھ ماہ میں امن بحال ہوجائے گا، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں  آپریشن کی ناکامی کی وجوہات بیان کی ہیں، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجہ سول انتظامیہ اور سول بیوروکریسی کے اختیارات اور مراعات پر قبضہ دالنا تھا تمام وسائل فوج کے حوالے کیے گئے اور مراعات و اختیارات بھی ایک ہی جگہ مرکوز کردیے گئے، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے یہ میرا نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف ہے. ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے بانی تھے اور آج یہی جماعت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خواب دیکھ رہی ہے، ہمیں دہشت گردوں سے جوڑنے والے جان لیں کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے دہشتگردوں کے لیے مائی بوائز کی اصطلاح استعمال کی تھی. مجاہد حسین کا تعلق نہ پی ٹی آئی سے ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا سے، مجاہد حسین نے اپنی کتاب پنجابی طالبان میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا ذکر کیا ہے پاکستان میں 229 دہشت گرد کیمپ قائم کیے گئے جن میں سے 219 پنجاب میں تھے، ان کیمپوں میں لاکھوں دہشت گردوں کو تربیت دی گئی، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو نہ پی ٹی آئی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت تھی 1947 سے آج تک ملک سے مخلص لوگوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جاتے رہے ہیں، کبھی باچا خان اور کبھی قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا، اب جب ان لوگوں کی حقیقت سامنے آرہی ہے تو محب وطن شہریوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، ہم بھی جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہیں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار روزانہ شہادتیں دے رہے ہیں، پاکستان کے عوام اور ہر ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے بیٹے ہیں، ہم ہر اس پالیسی کے باغی ہیں جو بے گناہوں کی جانیں لیتی اور ذاتی مفادات کے لیے کالا دھن پیدا کرتی ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دینے کی بات کرتا ہوں تو میری بات پر کان نہیں دھرے جاتے، ورلڈ رول آف لا انڈیکس میں 143 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130 ہے، وزیراعلیٰ  رجیم چینج آپریشن اور سیاسی انتقام نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو تباہ کردیا ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں اور روزانہ آئین و قانون کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے ظل شاہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمران خان کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کو نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے 26 نومبر، مریدکے اور دیگر واقعات نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کو جنم دیا، بے گناہ کشمیریوں کا قتل بھی ملک میں جاری ناانصافیوں کی
وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا شبقدر چوک چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب 11 اکتوبر کو پورے پاکستان کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دیتا ہوں، 13 اکتوبر کو پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، 13 اکتوبر کو ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ کوہاٹ ڈویژن کے قافلے بھی صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ پر مارچ میں شامل ہوں گے۔ عمران خان کے دور حکومت 2018 سے 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن اور خوشحالی تھی، عمران خان کے دور میں پاکستان کے تمام معاشی اشاریے مثبت تھے۔ عمران خان کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے دور میں صنعت، زراعت اور برآمدات ترقی کر رہی تھیں۔حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر پاکستان کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔ آج سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پاکستان دنیا میں سرفہرست آچکا ہے، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج آج پاکستان بھگت رہا ہے، 2004 سے 2026 تک پاکستان میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے۔ ان کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ختم کرنا ہے، پاکستان میں پہلا فوجی آپریشن 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا بلوچستان آپریشن کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ چھ ماہ میں امن بحال ہوجائے گا، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں آپریشن کی ناکامی کی وجوہات بیان کی ہیں، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجہ سول انتظامیہ اور سول بیوروکریسی کے اختیارات اور مراعات پر قبضہ دالنا تھا تمام وسائل فوج کے حوالے کیے گئے اور مراعات و اختیارات بھی ایک ہی جگہ مرکوز کردیے گئے، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے یہ میرا نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف ہے. ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے بانی تھے اور آج یہی جماعت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خواب دیکھ رہی ہے، ہمیں دہشت گردوں سے جوڑنے والے جان لیں کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے دہشتگردوں کے لیے مائی بوائز کی اصطلاح استعمال کی تھی. مجاہد حسین کا تعلق نہ پی ٹی آئی سے ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا سے، مجاہد حسین نے اپنی کتاب پنجابی طالبان میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا ذکر کیا ہے پاکستان میں 229 دہشت گرد کیمپ قائم کیے گئے جن میں سے 219 پنجاب میں تھے، ان کیمپوں میں لاکھوں دہشت گردوں کو تربیت دی گئی، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو نہ پی ٹی آئی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت تھی 1947 سے آج تک ملک سے مخلص لوگوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جاتے رہے ہیں، کبھی باچا خان اور کبھی قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا، اب جب ان لوگوں کی حقیقت سامنے آرہی ہے تو محب وطن شہریوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، ہم بھی جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہیں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار روزانہ شہادتیں دے رہے ہیں، پاکستان کے عوام اور ہر ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے بیٹے ہیں، ہم ہر اس پالیسی کے باغی ہیں جو بے گناہوں کی جانیں لیتی اور ذاتی مفادات کے لیے کالا دھن پیدا کرتی ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دینے کی بات کرتا ہوں تو میری بات پر کان نہیں دھرے جاتے، ورلڈ رول آف لا انڈیکس میں 143 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130 ہے، وزیراعلیٰ رجیم چینج آپریشن اور سیاسی انتقام نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو تباہ کردیا ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں اور روزانہ آئین و قانون کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے ظل شاہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمران خان کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کو نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے 26 نومبر، مریدکے اور دیگر واقعات نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کو جنم دیا، بے گناہ کشمیریوں کا قتل بھی ملک میں جاری ناانصافیوں کی

About