@sindimagadla: @Bolt

SindiMagadla 🤍
SindiMagadla 🤍
Open In TikTok:
Region: ZA
Wednesday 07 October 2026 16:27:48 GMT
11147
248
10
10

Music

Download

Comments

sj_kungwayo
sj_kungwayo :
Left my phone kwi bolt, called it the first time and went through called the second time went to voicemail then I went straight to the police station they traced him using the number plate to turn out the car wasn’t his but the owner of the car told him his wanted at the police station an hour later he came back with my phone and now it’s switched on but when I was trying to call it beyiya ku voicemail
2026-10-08 06:58:28
0
thateg0
Thatego :
You know what..bolt neh. My friend lost his cellphone like this and unfortunately we couldnt find who it was because he used his cellphone to request. Am really sorry hle
2026-10-07 19:38:17
3
iloveleera
Leera💋 :
Same thing happened to me and I didn’t request the ride but I called my friend who requested for me to call the driver and he didn’t pick up for the first 30 minutes and later he picks up and says he had other riders so they must’ve taken the phone and I knew he was lying because I tried to stop him before he left screaming in the middle of the road trying to run after the car… Bolt is not your friend
2026-10-07 19:58:16
0
thuthuka_
Princess :
My mom lost her phone like this a month back 💔
2026-10-07 19:54:45
0
lelomayisela02
Lelo Mayisela :
I’m going through the same thing. I request a ride on inDrive and forgot my phone. I was charging it. He didn’t pick my calls then switched off my phone and he blocked on his personal number. Yesterday they’ve been trying to log into my iCloud coz I’ve been receiving emails 😭😭
2026-10-07 18:59:56
0
To see more videos from user @sindimagadla, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا شبقدر چوک چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب 11 اکتوبر کو پورے پاکستان کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دیتا ہوں، 13 اکتوبر کو پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، 13 اکتوبر کو ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ کوہاٹ ڈویژن کے قافلے بھی صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ پر مارچ میں شامل ہوں گے۔ عمران خان کے دور حکومت 2018 سے 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن اور خوشحالی تھی، عمران خان کے دور میں پاکستان کے تمام معاشی اشاریے مثبت تھے۔ عمران خان کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے دور میں صنعت، زراعت اور برآمدات ترقی کر رہی تھیں۔حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر پاکستان کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔ آج سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پاکستان دنیا میں سرفہرست آچکا ہے، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج آج پاکستان بھگت رہا ہے، 2004 سے 2026 تک پاکستان میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے۔ ان کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ختم کرنا ہے، پاکستان میں پہلا فوجی آپریشن 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا بلوچستان آپریشن کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ چھ ماہ میں امن بحال ہوجائے گا، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں  آپریشن کی ناکامی کی وجوہات بیان کی ہیں، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجہ سول انتظامیہ اور سول بیوروکریسی کے اختیارات اور مراعات پر قبضہ دالنا تھا تمام وسائل فوج کے حوالے کیے گئے اور مراعات و اختیارات بھی ایک ہی جگہ مرکوز کردیے گئے، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے یہ میرا نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف ہے. ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے بانی تھے اور آج یہی جماعت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خواب دیکھ رہی ہے، ہمیں دہشت گردوں سے جوڑنے والے جان لیں کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے دہشتگردوں کے لیے مائی بوائز کی اصطلاح استعمال کی تھی. مجاہد حسین کا تعلق نہ پی ٹی آئی سے ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا سے، مجاہد حسین نے اپنی کتاب پنجابی طالبان میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا ذکر کیا ہے پاکستان میں 229 دہشت گرد کیمپ قائم کیے گئے جن میں سے 219 پنجاب میں تھے، ان کیمپوں میں لاکھوں دہشت گردوں کو تربیت دی گئی، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو نہ پی ٹی آئی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت تھی 1947 سے آج تک ملک سے مخلص لوگوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جاتے رہے ہیں، کبھی باچا خان اور کبھی قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا، اب جب ان لوگوں کی حقیقت سامنے آرہی ہے تو محب وطن شہریوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، ہم بھی جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہیں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار روزانہ شہادتیں دے رہے ہیں، پاکستان کے عوام اور ہر ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے بیٹے ہیں، ہم ہر اس پالیسی کے باغی ہیں جو بے گناہوں کی جانیں لیتی اور ذاتی مفادات کے لیے کالا دھن پیدا کرتی ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دینے کی بات کرتا ہوں تو میری بات پر کان نہیں دھرے جاتے، ورلڈ رول آف لا انڈیکس میں 143 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130 ہے، وزیراعلیٰ  رجیم چینج آپریشن اور سیاسی انتقام نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو تباہ کردیا ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں اور روزانہ آئین و قانون کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے ظل شاہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمران خان کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کو نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے 26 نومبر، مریدکے اور دیگر واقعات نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کو جنم دیا، بے گناہ کشمیریوں کا قتل بھی ملک میں جاری ناانصافیوں کی
وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا شبقدر چوک چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب 11 اکتوبر کو پورے پاکستان کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دیتا ہوں، 13 اکتوبر کو پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، 13 اکتوبر کو ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ کوہاٹ ڈویژن کے قافلے بھی صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ پر مارچ میں شامل ہوں گے۔ عمران خان کے دور حکومت 2018 سے 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن اور خوشحالی تھی، عمران خان کے دور میں پاکستان کے تمام معاشی اشاریے مثبت تھے۔ عمران خان کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے دور میں صنعت، زراعت اور برآمدات ترقی کر رہی تھیں۔حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر پاکستان کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔ آج سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پاکستان دنیا میں سرفہرست آچکا ہے، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج آج پاکستان بھگت رہا ہے، 2004 سے 2026 تک پاکستان میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے۔ ان کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ختم کرنا ہے، پاکستان میں پہلا فوجی آپریشن 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا بلوچستان آپریشن کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ چھ ماہ میں امن بحال ہوجائے گا، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں آپریشن کی ناکامی کی وجوہات بیان کی ہیں، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجہ سول انتظامیہ اور سول بیوروکریسی کے اختیارات اور مراعات پر قبضہ دالنا تھا تمام وسائل فوج کے حوالے کیے گئے اور مراعات و اختیارات بھی ایک ہی جگہ مرکوز کردیے گئے، بلوچستان آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے یہ میرا نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف ہے. ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے بانی تھے اور آج یہی جماعت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خواب دیکھ رہی ہے، ہمیں دہشت گردوں سے جوڑنے والے جان لیں کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے دہشتگردوں کے لیے مائی بوائز کی اصطلاح استعمال کی تھی. مجاہد حسین کا تعلق نہ پی ٹی آئی سے ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا سے، مجاہد حسین نے اپنی کتاب پنجابی طالبان میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا ذکر کیا ہے پاکستان میں 229 دہشت گرد کیمپ قائم کیے گئے جن میں سے 219 پنجاب میں تھے، ان کیمپوں میں لاکھوں دہشت گردوں کو تربیت دی گئی، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو نہ پی ٹی آئی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت تھی 1947 سے آج تک ملک سے مخلص لوگوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جاتے رہے ہیں، کبھی باچا خان اور کبھی قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا، اب جب ان لوگوں کی حقیقت سامنے آرہی ہے تو محب وطن شہریوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، ہم بھی جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہیں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار روزانہ شہادتیں دے رہے ہیں، پاکستان کے عوام اور ہر ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے بیٹے ہیں، ہم ہر اس پالیسی کے باغی ہیں جو بے گناہوں کی جانیں لیتی اور ذاتی مفادات کے لیے کالا دھن پیدا کرتی ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دینے کی بات کرتا ہوں تو میری بات پر کان نہیں دھرے جاتے، ورلڈ رول آف لا انڈیکس میں 143 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130 ہے، وزیراعلیٰ رجیم چینج آپریشن اور سیاسی انتقام نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو تباہ کردیا ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں اور روزانہ آئین و قانون کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے ظل شاہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمران خان کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کو نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے 26 نومبر، مریدکے اور دیگر واقعات نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کو جنم دیا، بے گناہ کشمیریوں کا قتل بھی ملک میں جاری ناانصافیوں کی

About