@ebuu5911: yêu em #ebuu #viral #fyp #xh #nhasangtaofreefire

ebuu
ebuu
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 12 October 2026 22:08:00 GMT
77903
3998
101
775

Music

Download

Comments

lan_huong_6th12
L@n Hương ⭐️ :
Mở bát buổi sáng
2026-10-12 23:00:59
41
trung_zung_dep_zai
thik biến hình 💋 :
st vẫn còn lục bạc họ ko bt nên hỏi
2026-10-13 00:17:52
5
user5361595238868
Huyền cute 🍇🍉🍓 :
chồng ơi
2026-10-13 10:42:53
2
user965925586
🐍Nước Tương 🐍 :
chúc tus xhhh nhe
2026-10-12 22:20:26
7
minhnhatanlac
2k15 :
đầu tiên
2026-10-12 22:16:04
1
thuylinh0151
? :
làm video kiểu này khó không bây t cũng muốn làm cho siêu bạn thân :))
2026-10-13 11:13:14
1
hl.jeuu
hl.jeuu :
t vào nha, vào thật đó
2026-10-13 08:58:09
1
dai_hihi22
Minhh Đạii :
hay v mà kh xh
2026-10-13 05:54:06
1
mon_nhoanh
tí em đan..? :
dịu he
2026-10-13 04:12:22
1
ngoclinh_2139
_love a3_ :
Kh phải là kh muốn vào game mà vào thấy nyc chs vs nym lại khóc nên xoá game là xoá tất cả
2026-10-13 08:07:47
1
anhnhoem...10
ng phi hung✈️💪🏻 :
xin vd đc kh chủ tus
2026-10-12 23:48:37
1
long.04122013
DK bản mèo :
ai tim video mk dc ko ak
2026-10-13 13:29:54
0
cuacute377
㋰Người mà ah ấy chọn :
Toàn pha hetshot
2026-10-13 14:25:51
0
naganjati44
sao cx dc ! :
bây ơi cản t ik
2026-10-13 12:47:31
0
xinh_gai543
😜 :
Wow 🤩
2026-10-13 14:41:58
0
baoquyencte
bờ qờ💤 :
sớm a
2026-10-12 22:18:54
0
i.khi41
Khải siêu cấp bá khí :
2026-10-13 13:22:21
0
phu.tiu42
pHu TiỀu👺 :
2026-10-13 12:45:04
0
bao_tram94
kasumi(trâm) :
2026-10-13 11:35:23
0
tng.nhn829
anh Nhân :
Hay quá anh ơi
2026-10-13 11:19:51
0
dann47660
Dann🍌 :
nhìn chỉ bt ước
2026-10-13 12:36:24
0
tk.dnn084
thỏ 🐰 :
cuốn vl chúc tus sớm xh nhó
2026-10-13 15:49:04
0
yn656267
yến đời thường👹👺😴 :
mói mở đt á
2026-10-13 11:24:43
0
baophuc512
ST.a.byn.ẩu :
hay day
2026-10-13 11:55:50
0
thcsdonghoalub
7A5🫰 :
Sớm
2026-10-12 22:22:48
0
To see more videos from user @ebuu5911, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

‏آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی⁦ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔  ‏ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ ‏انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ‏ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ ‏جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ ‏وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ ‏انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ ‏وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ ‏یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ‏سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ ‏تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ ‏عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔  ‏عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔
‏آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی⁦ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔ ‏ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ ‏انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ‏ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ ‏جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ ‏وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ ‏انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ ‏وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ ‏یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ‏سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ ‏تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ ‏عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ ‏عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔

About