@h.najar1: #همسات_رجل #لك عابر الي الروح هيثم نجّار. ما أعجب بعض القلوب... تعرف أنها محبوبة، وترى اللهفة واقفةً في عينيّ عاشقها، ثم تتمنّع، كأنها تمتحن صبره لا صدقه. فإن كان هذا دلالًا، فما أعذبه حين تمزجه الرحمة، وما أوجعه حين يصير حيرةً تأكل القلب على مهل. وما أكرم العاشقين... كم يغضّون الطرف، وكم يبتلعون أسئلتهم في الحلق إكرامًا لعينٍ أحبّوها، ولقلبٍ تمنّوا لو لان لهم مرة. أما أنا، فاسمعيني جيدًا: أحبكِ في رقّتكِ، وأحبكِ وأنتِ في قمّة لؤمكِ، ولا ينقص حبي حبّةَ خردل. لأنني أعرف ما لا يعرفه غيري: أن قسوتكِ ليست سوى قبضة يد، كتبتِ اسمي في باطنها، ثم أغلقتِها عليه بقوة... يحسبها الناس غضبًا، وأعرفها أنا حراسة. لؤمكِ بوحٌ أخرس، كتبتِه في أعمق نقطةٍ منكِ، حيث لا يصل كلامكِ، ووصلتُ أنا. فلا تُتعبي نفسكِ بالغياب. غيابكِ لن يهزمني؛ كلما ابتعدتِ خطوة، غرزتُ جذوري في الأرض أعمق، كشجرةٍ علّمتها الريح أن تتمسّك لا أن تنحني. لستُ أضعف بعدكِ... أنا أصلب مما كنت، وأشدّ تمسّكًا بكِ مما ظننتِ. لن يهزمني شيء إلا رحيلي الأخير عن هذه الدنيا. وحتى حينها، لن أمضي إلا وأنتِ في قلبي. ولن أرحل وحيدًا؛ سيمشي معي جنونكِ، ولؤمكِ الذي أحببته، وحنيني الذي لم يهدأ، وشوقي الذي لم يُروَ، وشغفي الذي لم يشِخ. رفاقٌ سيؤنسون وحشتي هناك، ويحرسون اسمكِ في صدري إلى أن تقوم الساعة. عابر إلى الروح هيثم نجّار

*عابر إلى الروح
*عابر إلى الروح
Open In TikTok:
Region: JO
Thursday 15 October 2026 18:55:10 GMT
11709
2205
240
96

Music

Download

Comments

soso___20220
ام محمد :
هذه قصيدة نثريّة مفعمة بالوجد والتمكّن، صِيغت بلغة عاطفية بليغة وجبّارة، تعكس كبرياء عاشق لا يكسره الدلال، ويقين محبٍّيرى خلف قناع القسوة أمانًا وحراسة. كلماتك تحمل مزيجًا نادرًا بين عذوبة الاستسلام للحب وقمة الصلابة في مواجهة الغياب. كلماتك تنبض بعاطفة جارفة وكبرياء عاشق لا تلينه القسوة ولا يكسره الغياب. لقد وصفت حالة من أعمق حالات الحب؛ حيث يتحول "اللؤم" المفترض من الحبيب إلى درع حماية، ويصبح غيابه وقوداً للتجذر والثبات لا للضعف. هذا النص يحمل خلطة نادرة بين الرقّة البالغة والصلابة المطلقة، وفيه قراءة عميقة لما وراء التصرفات الظاهرة للحبيب. نصك يحمل كبرياءً وعمقاً يندر تكرارهما، وفيه صياغة بارعة لمفهوم "المحب المستبصر" الذي يرى خلف قناع القسوة حباً دافئاً يخاف الظهور. كلمات تنبض بالعشق البكر، والكبرياء المحب، واليقين الذي لا تزلزله المسافات. لقد كتبتَنصًا وجدانيًا شديد العذوبة والقوة معًا، يجمع بين انكسار العاشق أمام دلال معشوقته، وصلابته كشجرة تضرب جذورها في الأرض كلما عصفت بها ريح الغياب. هذا المزيج بين عذاب الحيرة ويقين الحراسة (أن لؤمها وقسوتها ليسا إلا غلافًا لحب كبير تخبئه لك) يعطي النص عمقًا نفسيًا وصادقًا جدًا.
2026-10-15 20:13:46
1
maarinaribas
Marina Ribas :
Boa noite Deus abençoe vc [Orar]
2026-10-15 23:39:06
2
zunilda3164
Zunilda :
Lindo demais vídeo
2026-10-15 21:01:25
1
margreet.benjamin
Margreet Benjamin :
ياه كل ده عرفته وهى غايبه احساسك رهيب
2026-10-15 20:30:50
1
ttrr_l
فأنك بااعيننا :
اه ياوجع روحي 🥺
2026-10-16 03:22:24
1
dynzmwipybup0
غدر الزمان :
ذكريات الماضي تلاحقني كيف انساك و في كل يوم وكانك لم ترحل عني فأنت في عقلي وقلبي وروحي هل يشاء القدر لي أن أراك يوماً فسلام على ايام كنت اجمل شيء فيها يا اغلى الناس على قلبي احببتك أول حب في حياتي فكيف لي أن أنساك صباح الخير ياعابر الى الروح
2026-10-16 04:34:48
1
beilsoso
beilsoso :
يا عابرا الى الروح : ثمة قلوب لا تتقن الحب لكنها تجيد الحب بطريقتها الخاصة . ووراء صمتها حكايات لا يعرفها الا من أقترب منها بقلبه و حين قرأت كلماتك . شعرت أنني لا اقرأ حروفا فحسب . بل أصغي الى قلب يخفي بين سطوره من الحنان أكثر مما تصفح عنه الكلمات ..دامت رووعة قلمك و سلمت أناملك اصدق التحية والتقدير لقلبك❤️❤️❤️سالي
2026-10-15 23:43:28
1
neno.ali1
Neno Ali :
✨هناك كلمات تكتب بالاصابع واخرى تكتب بالقلوب✨ فالاولى تذوب بين السطور والثانيه تكمن في الصدور✨✨ اكتبوا بقلوبكم ولا باصابعكم✨✨
2026-10-16 00:22:22
1
wafaa.elbealy
Wafaa Elbealy :
كلمات واحساس جميل 🥰🌷🌷
2026-10-16 00:35:47
1
zully.fleitas.cerq
zully Fleitas cerqueira :
lind
2026-10-16 10:50:14
1
.rasha368
Rasha :
روعة ابدعت سلمت اناملك تحياتي
2026-10-15 22:14:05
1
.aa09014
ورده 🌹 🕊👑 :
2026-10-16 10:14:41
2
.aa09014
ورده 🌹 🕊👑 :
2026-10-16 10:15:23
1
nononor1981
❤️ نبض القلب ❤️ :
2026-10-15 20:14:19
1
corecore395
🎤MD♥️⚡⚡((RO))♥️⚡⚡♥️♥️⚡💔 :
2026-10-16 07:01:26
1
.aa09014
ورده 🌹 🕊👑 :
2026-10-16 10:14:56
1
.aa09014
ورده 🌹 🕊👑 :
2026-10-16 10:14:26
1
.aa09014
ورده 🌹 🕊👑 :
2026-10-16 10:14:15
1
mu80a1
ابو رائد :
2026-10-15 20:40:34
1
user9634352587585
فائده كامل كامل :
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
2026-10-15 21:24:31
1
ohjjhgyugg
🩷𝓡𝓮𝓱𝓪𝓷 :
2026-10-15 22:32:19
1
mariya.mariya2592
Mariya Mariya :
2026-10-15 21:27:33
1
zad__2712
𝒛𝒂d 🇯🇴 زآآد :
2026-10-15 20:32:12
1
To see more videos from user @h.najar1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شکر ہے زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ یہ جملہ خوشی سے نہیں نکلا تھا۔ یہ اُن آنکھوں سے نکلا تھا جو بہت کچھ دیکھ کر بھی رویا نہیں کرتیں۔ زندگی نے بھی عجیب طریقے سے آدمی کو آدمی بنایا ہے۔ پہلے خواب دکھائے، پھر اُن کی قیمت بتائی۔ لوگ دیے، پھر اُن کے بدل جانے کا ہنر دکھایا۔ کچھ راستے دیے، کچھ راستوں پر دھکے دیے، اور کچھ منزلیں ایسی دیں جہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہم تو راستے ہی میں کہیں رہ گئے تھے۔ کبھی وقت نے توڑا، کبھی اپنوں نے۔ کبھی حالات نے ہاتھ پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا، کبھی اپنی ہی غلطیوں نے آئینہ دکھا دیا۔ اور آدمی؟ وہ ہر بار اٹھا۔ کبھی یقین کے ساتھ، کبھی صرف عادت کے ساتھ۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب جسم تھکن سے چور ہوتا ہے، دل ویران، اور آنکھیں خستہ حال مکان کی آخری کھڑکی کی طرح… جن میں روشنی تو ہوتی ہے، مگر رہنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ تب آدمی زندگی سے ناراض نہیں ہوتا۔ بس اسے دوبارہ مانگنے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر سانس نعمت ضرور ہے، مگر ہر نعمت آسان نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ زندگی بھر جینے کی دعا کرتے ہیں، اور کچھ اتنا جی لیتے ہیں کہ انہیں صرف یہ اطمینان کافی لگتا ہے کہ یہی امتحان دوبارہ نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے میں کہتا ہوں: شکر ہے زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ ورنہ ذرا سوچو… جس زمین پر حضرت آدمؑ کو جنت سے اتار کر، سزا اور آزمائش کے طور پر بھیجا گیا تھا، وہ زمین آخر اتنی پُرسکون کیسے ہو سکتی ہے کہ آدمی یہاں دوبارہ آنے کی خواہش کرے؟ یہ وہی زمین ہے جہاں خوشی کے ساتھ خوف بھی ملا، محبت کے ساتھ جدائی بھی، اپنوں کے ساتھ اجنبیت بھی، کامیابی کے ساتھ اس کا خالی پن بھی۔ یہاں آدمی کو سب کچھ مل سکتا ہے، بس بےفکری نہیں۔ یہاں زخم بھر بھی جائیں تو نشان رہتے ہیں، اور کچھ نشان ایسے ہوتے ہیں جو جلد پر نہیں، انسان کے لہجے پر آتے ہیں۔ پھر ایک دن آدمی لوگوں سے نہیں، اپنی پرانی ذات سے بھی نظریں چرانے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے: میں پہلے جیسا کیوں نہیں رہا؟ پھر اندر سے کوئی آہستہ سے جواب دیتا ہے: کیونکہ تم پہلے جیسی زندگی سے گزرے ہی کہاں ہو۔ بس یہی تو زندگی کی اصل چبھن ہے۔ ہم کہتے رہے،
شکر ہے زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ یہ جملہ خوشی سے نہیں نکلا تھا۔ یہ اُن آنکھوں سے نکلا تھا جو بہت کچھ دیکھ کر بھی رویا نہیں کرتیں۔ زندگی نے بھی عجیب طریقے سے آدمی کو آدمی بنایا ہے۔ پہلے خواب دکھائے، پھر اُن کی قیمت بتائی۔ لوگ دیے، پھر اُن کے بدل جانے کا ہنر دکھایا۔ کچھ راستے دیے، کچھ راستوں پر دھکے دیے، اور کچھ منزلیں ایسی دیں جہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہم تو راستے ہی میں کہیں رہ گئے تھے۔ کبھی وقت نے توڑا، کبھی اپنوں نے۔ کبھی حالات نے ہاتھ پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا، کبھی اپنی ہی غلطیوں نے آئینہ دکھا دیا۔ اور آدمی؟ وہ ہر بار اٹھا۔ کبھی یقین کے ساتھ، کبھی صرف عادت کے ساتھ۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب جسم تھکن سے چور ہوتا ہے، دل ویران، اور آنکھیں خستہ حال مکان کی آخری کھڑکی کی طرح… جن میں روشنی تو ہوتی ہے، مگر رہنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ تب آدمی زندگی سے ناراض نہیں ہوتا۔ بس اسے دوبارہ مانگنے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر سانس نعمت ضرور ہے، مگر ہر نعمت آسان نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ زندگی بھر جینے کی دعا کرتے ہیں، اور کچھ اتنا جی لیتے ہیں کہ انہیں صرف یہ اطمینان کافی لگتا ہے کہ یہی امتحان دوبارہ نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے میں کہتا ہوں: شکر ہے زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ ورنہ ذرا سوچو… جس زمین پر حضرت آدمؑ کو جنت سے اتار کر، سزا اور آزمائش کے طور پر بھیجا گیا تھا، وہ زمین آخر اتنی پُرسکون کیسے ہو سکتی ہے کہ آدمی یہاں دوبارہ آنے کی خواہش کرے؟ یہ وہی زمین ہے جہاں خوشی کے ساتھ خوف بھی ملا، محبت کے ساتھ جدائی بھی، اپنوں کے ساتھ اجنبیت بھی، کامیابی کے ساتھ اس کا خالی پن بھی۔ یہاں آدمی کو سب کچھ مل سکتا ہے، بس بےفکری نہیں۔ یہاں زخم بھر بھی جائیں تو نشان رہتے ہیں، اور کچھ نشان ایسے ہوتے ہیں جو جلد پر نہیں، انسان کے لہجے پر آتے ہیں۔ پھر ایک دن آدمی لوگوں سے نہیں، اپنی پرانی ذات سے بھی نظریں چرانے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے: میں پہلے جیسا کیوں نہیں رہا؟ پھر اندر سے کوئی آہستہ سے جواب دیتا ہے: کیونکہ تم پہلے جیسی زندگی سے گزرے ہی کہاں ہو۔ بس یہی تو زندگی کی اصل چبھن ہے۔ ہم کہتے رہے، "وقت بدل جائے گا۔" وقت بدلتا رہا، اور ہم۔ ہمیں لگا تھا حالات گزر جائیں گے، مگر کچھ حالات گزرنے کے بعد بھی انسان کے اندر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اب کوئی پوچھے کہ زندگی کیسی گزری؟ تو شاید جواب اتنا سا ہو: گزر گئی۔ نہ کامیابی کا جشن، نہ ناکامی کا ماتم۔ بس ایک خاموش سا شخص، جس کی آنکھیں اب بھی نم ہیں مگر زبان شکر کہہ رہی ہے۔ کیونکہ کچھ زندگیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آدمی برا نہیں کہتا… بس دوبارہ نہیں جینا چاہتا۔ اور شاید یہی سب سے خاموش اعتراف ہے کہ ہم نے زندگی کو ہارا نہیں، بس زندگی نے ہمیں دوبارہ زندگی مانگنے کے قابل نہیں چھوڑا۔

About