@mainpisbae: #evelynortizlive #wendyortiz #derekking #ddg

Main p is bae
Main p is bae
Open In TikTok:
Region: US
Friday 16 October 2026 03:54:25 GMT
871
21
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @mainpisbae, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم نے پارلیمنٹ کا راستہ اختیار کیا، اور آج آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور دنیا بھی دیکھ رہی ہے کہ پارلیمانی سیاست، جمہوری سیاست اور عوام کی سیاست کو اگر کوئی سبوتاژ کر رہا ہے تو وہ کون سی قوت ہے؟ اب یہ باتیں کوئی مخفی نہیں رہیں۔ ایک طاقتور قوت اپنی ذات میں طاقت کے ارتکاز کے ساتھ تمام عوامی اور سول اداروں کے اختیارات اپنے اندر مرتکز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ روش ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اتنے زیادہ اختیارات اپنے کندھوں پر لاد رہے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں، بہت قریب ہے، جب آپ خود اس دباؤ کے نیچے دب جائیں گے اور اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔ ملکی سیاست میں ہم توازن کے قائل ہیں۔ ہم کسی کی نفی نہیں کر رہے۔ فوج کا ادارہ بھی ناگزیر ہے، بیوروکریسی بھی ناگزیر، تاجر طبقہ بھی ناگزیر، کاروباری طبقہ بھی ناگزیر، مزدور طبقہ بھی ناگزیر، اور پارلیمانی و جمہوری سیاست بھی ناگزیر ہے۔ لیکن تمام اداروں کے درمیان توازن ہونا چاہیے، تب جا کر ملک چلے گا۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب
ہم نے پارلیمنٹ کا راستہ اختیار کیا، اور آج آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور دنیا بھی دیکھ رہی ہے کہ پارلیمانی سیاست، جمہوری سیاست اور عوام کی سیاست کو اگر کوئی سبوتاژ کر رہا ہے تو وہ کون سی قوت ہے؟ اب یہ باتیں کوئی مخفی نہیں رہیں۔ ایک طاقتور قوت اپنی ذات میں طاقت کے ارتکاز کے ساتھ تمام عوامی اور سول اداروں کے اختیارات اپنے اندر مرتکز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ روش ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اتنے زیادہ اختیارات اپنے کندھوں پر لاد رہے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں، بہت قریب ہے، جب آپ خود اس دباؤ کے نیچے دب جائیں گے اور اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔ ملکی سیاست میں ہم توازن کے قائل ہیں۔ ہم کسی کی نفی نہیں کر رہے۔ فوج کا ادارہ بھی ناگزیر ہے، بیوروکریسی بھی ناگزیر، تاجر طبقہ بھی ناگزیر، کاروباری طبقہ بھی ناگزیر، مزدور طبقہ بھی ناگزیر، اور پارلیمانی و جمہوری سیاست بھی ناگزیر ہے۔ لیکن تمام اداروں کے درمیان توازن ہونا چاہیے، تب جا کر ملک چلے گا۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب

About