@deib_mr:

Deib
Deib
Open In TikTok:
Region: MY
Saturday 17 October 2026 08:05:36 GMT
15
4
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @deib_mr, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بحریہ ٹاؤن راولپنڈی فیز 8 کا بزنس ڈسٹرکٹ  ایک کمرشل ہب یا معاشی قبرستان؟ میں بحریہ ٹاؤن فیز 8 کے بزنس ڈسٹرکٹ کو “ورسیز پاکستانیوں کا معاشی قبرستان” اس لیے کہتا ہوں کہ میری نظر میں یہاں بہت سے لوگوں کی سرمایہ کاری ایک ایسے منصوبے میں پھنسی ہوئی ہے جس کی وہ رفتار اور کمرشل ایکٹیویٹی آج تک پیدا نہیں ہو سکی جس کی توقع انویسٹرز نے کی تھی۔ یہاں کہیں سٹرکچر کھڑے ہیں، کہیں صرف کالمز اور بنیادی کام مکمل ہوا ہے، کہیں عمارتیں تقریباً مکمل ہونے کے باوجود فنیشنگ اور دیگر کام باقی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر وہ کمرشل سرگرمی نظر نہیں آتی جس کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔ میرا مؤقف یہ نہیں کہ یہاں کام کرنے والا ہر شخص غلط ہے، اور نہ ہی یہ کسی ایک ڈیولپر یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بات ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے ڈیولپرز کے فیصلے، حکومتی پالیسیوں، ریگولیٹری مسائل، مارکیٹ کی صورتحال اور دیگر عوامل اپنا اپنا کردار رکھتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ: جس سرمایہ کار نے اپنی زندگی کی جمع پونجی، یا بیرونِ ملک محنت سے کمائی ہوئی رقم، یہاں کمرشل پراپرٹی میں لگائی—اس کی سرمایہ کاری کب حقیقی کاروباری سرگرمی میں تبدیل ہوگی؟ میری موجودہ رائے کے مطابق 2028 سے پہلے یہاں وہ عملی تبدیلی آنا مشکل دکھائی دیتی ہے جس سے یہ علاقہ ایک مکمل اور فعال کمرشل ہب بن سکے۔ یہ ایک رائے اور موجودہ حالات کا میرا تجزیہ ہے، کوئی حتمی پیش گوئی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں اسے “معاشی قبرستان” کہتا ہوں تو بعض لوگ اسے ذاتی تنقید سمجھ لیتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو وہاں پروجیکٹس بنا رہے ہیں۔ لیکن کسی جگہ کی حقیقت پر سوال اٹھانا اور وہاں کام کرنے والے ہر شخص کی نیت یا محنت پر سوال اٹھانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اگر کسی کو میرے الفاظ سخت لگتے ہیں تو وہ اس اصطلاح سے اختلاف کر سکتا ہے، لیکن اصل سوال کا جواب پھر بھی دینا ہوگا: کیا بزنس ڈسٹرکٹ واقعی وہ کمرشل ہب بن چکا ہے جس کا خواب سرمایہ کاروں کو دکھایا گیا تھا؟ میں شخصیات پر بات نہیں کرتا، میں نتائج پر بات کرتا ہوں۔ اور جہاں لوگوں کی محنت اور سرمایہ کئی سال سے پھنسا ہوا ہو، وہاں سوال اٹھانا تنقید نہیں بلکہ سرمایہ کار کے حقِ معلومات کا حصہ ہے۔
بحریہ ٹاؤن راولپنڈی فیز 8 کا بزنس ڈسٹرکٹ ایک کمرشل ہب یا معاشی قبرستان؟ میں بحریہ ٹاؤن فیز 8 کے بزنس ڈسٹرکٹ کو “ورسیز پاکستانیوں کا معاشی قبرستان” اس لیے کہتا ہوں کہ میری نظر میں یہاں بہت سے لوگوں کی سرمایہ کاری ایک ایسے منصوبے میں پھنسی ہوئی ہے جس کی وہ رفتار اور کمرشل ایکٹیویٹی آج تک پیدا نہیں ہو سکی جس کی توقع انویسٹرز نے کی تھی۔ یہاں کہیں سٹرکچر کھڑے ہیں، کہیں صرف کالمز اور بنیادی کام مکمل ہوا ہے، کہیں عمارتیں تقریباً مکمل ہونے کے باوجود فنیشنگ اور دیگر کام باقی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر وہ کمرشل سرگرمی نظر نہیں آتی جس کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔ میرا مؤقف یہ نہیں کہ یہاں کام کرنے والا ہر شخص غلط ہے، اور نہ ہی یہ کسی ایک ڈیولپر یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بات ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے ڈیولپرز کے فیصلے، حکومتی پالیسیوں، ریگولیٹری مسائل، مارکیٹ کی صورتحال اور دیگر عوامل اپنا اپنا کردار رکھتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ: جس سرمایہ کار نے اپنی زندگی کی جمع پونجی، یا بیرونِ ملک محنت سے کمائی ہوئی رقم، یہاں کمرشل پراپرٹی میں لگائی—اس کی سرمایہ کاری کب حقیقی کاروباری سرگرمی میں تبدیل ہوگی؟ میری موجودہ رائے کے مطابق 2028 سے پہلے یہاں وہ عملی تبدیلی آنا مشکل دکھائی دیتی ہے جس سے یہ علاقہ ایک مکمل اور فعال کمرشل ہب بن سکے۔ یہ ایک رائے اور موجودہ حالات کا میرا تجزیہ ہے، کوئی حتمی پیش گوئی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں اسے “معاشی قبرستان” کہتا ہوں تو بعض لوگ اسے ذاتی تنقید سمجھ لیتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو وہاں پروجیکٹس بنا رہے ہیں۔ لیکن کسی جگہ کی حقیقت پر سوال اٹھانا اور وہاں کام کرنے والے ہر شخص کی نیت یا محنت پر سوال اٹھانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اگر کسی کو میرے الفاظ سخت لگتے ہیں تو وہ اس اصطلاح سے اختلاف کر سکتا ہے، لیکن اصل سوال کا جواب پھر بھی دینا ہوگا: کیا بزنس ڈسٹرکٹ واقعی وہ کمرشل ہب بن چکا ہے جس کا خواب سرمایہ کاروں کو دکھایا گیا تھا؟ میں شخصیات پر بات نہیں کرتا، میں نتائج پر بات کرتا ہوں۔ اور جہاں لوگوں کی محنت اور سرمایہ کئی سال سے پھنسا ہوا ہو، وہاں سوال اٹھانا تنقید نہیں بلکہ سرمایہ کار کے حقِ معلومات کا حصہ ہے۔

About