Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@f4rnana: #fyp #foryou
Aria
Open In TikTok:
Region: MY
Saturday 17 October 2026 11:54:58 GMT
23
0
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.82MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.7MB
)
Watermark .mp4 (
0.88MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @f4rnana, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
thế cj ko đến thật à..... 😭@Phuowg Thảo🖤 #xuhuongtiktok
4. Tak perlu pergi spa, urut tapak kaki sendiri di rumah dengan selipar ini #seliparurut #seliparrumah #seliparmurahmalaysia #keselesaankaki #tiktokshopmalaysia
@growth.supplements NÃO ERA NEM PRA EXISTIR ESSA MERD4!😳🔥 #growthcy #growtv #shorts #treinopesado #gym #musculação #academia #Fitness #bodybuilding #ESPORTE #fisiculturismo #maromba #foco #shape #dieta #superação #hipertrofia #meme #rj
قائداعظم کی ہدایت کے جوابمیں یہ تاریخی الفاظ پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف، جنرل سر فرینک میسروی (General Sir Frank Messervy) یا بعد میں آنے والے جنرل سر ڈگلس گریسی (General Sir Douglas Gracey) سے منسوب کیے جاتے ہیں، جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے بعض احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار انگریز تھے جو تکنیکی طور پر ابھی بھی برطانوی تاج (Crown) کے وفادار تھے۔ آپ کے اٹھائے گئے نکات کی روشنی میں اس پورے تناظر اور پاکستانی تاریخ کی حقیقت کا ایک غیر جانبدارانہ جائزہ نیچے دیا گیا ہے: 1. برطانوی کمانڈرز اور قائد اعظم کا حکم تفصیلات کے مطابق، 1947-1948 میں جب کشمیر کی صورتحال خراب ہوئی تو قائد اعظم محمد علی جناح نے پاک فوج کو پیش قدمی کا حکم دیا۔ تاہم، اس وقت کے انگریز جنرلز نے یہ کہہ کر ان کا حکم ماننے سے معذرت کر لی کہ وہ برطانوی بادشاہ کے وفادار ہیں اور دونوں ڈومینینز (پاکستان اور بھارت) کے درمیان براہ راست جنگ کی صورت میں وہ اپنے دستے نہیں بھیج سکتے۔ 2. سول ملٹری تعلقات کی تاریخ پاکستان کی تاریخ میں سول حکومتوں اور عسکری قیادت کے درمیان اختیارات کا توازن ہمیشہ ایک بڑا بحث کا موضوع رہا ہے۔ سیاسی مداخلت: پاکستان کی تاریخ میں 4 مرتبہ براہ راست مارشل لاء لگا اور طویل عرصے تک فوجی حکومتیں رہیں۔ وزیر اعظم کے احکامات: یہ تاثر مکمل طور پر غلط نہیں ہے کہ کئی مواقع پر وزرائے اعظم کے فیصلوں کو سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں چیلنج کیا گیا یا انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ 3. کیا آج بھی پاکستان اس اثر سے نہیں نکل سکا؟ دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق، پاکستان نے 1951 میں اپنا پہلا مقامی کمانڈر ان چیف (جنرل ایوب خان) مقرر کر کے برطانوی کمانڈ سے مکمل آزادی حاصل کر لی تھی۔ لیکن ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ آج بھی ایک حقیقت ہے، جس کی وجہ سے یہ بحث اب بھی زندہ ہے کہ ملک کا اصل کنٹرول کس کے پاس ہے۔ میں گریسی نے فوری طور پر فوج کو کشمیر بھیجنے کا حکم جاری نہیں کیا۔ تاریخی بیان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل کلاڈ آکنلک کی منظوری کے بغیر ایسا حکم جاری نہیں کریں گے۔ آکنلک اس وقت تقسیمِ ہند کے بعد دونوں ملکوں کی افواج سے متعلق معاملات کی نگرانی کر رہے تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ اگر برطانوی افسر پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی فوج کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے تو برطانوی افسران کو دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف لڑنا پڑ سکتا ہے۔ آکنلک لاہور پہنچے اور قائداعظم کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان کی فوج میں خدمات انجام دینے والے برطانوی افسران کو واپس بلایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد فوج بھیجنے کا حکم واپس لے لیا گیا۔ ایک اہم تاریخی وضاحت: جنرل گریسی کو اکثر پاکستان کا پہلا آرمی چیف کہا جاتا ہے، لیکن یہ درست نہیں۔ اکتوبر 1947ء میں پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک میسروی تھے۔ گریسی اس وقت ان کی عارضی غیر موجودگی میں قائم مقام کمانڈر انچیف کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ گریسی بعد میں 1948ء میں باقاعدہ کمانڈر انچیف بنے۔ #PakistanPoliticalCrisis #PakistanPolitics #foryou
+1 Quán cà phê đã hoàn thiện Concept Noel và có phun tuyết tại Thủ Dầu Một luôn á mấy bàaa✨🍀📸 #ThuDauMot #Checkin #CafeBinhDuong #ReviewCafe #Noel
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy