@julmin_edit: #preset #fyp #anime #cosplay #jjcapcut

JULMIN々PRESET
JULMIN々PRESET
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 18 October 2026 03:16:07 GMT
14666
2083
32
95

Music

Download

Comments

rahryyanuar
admin biru :
wait anda siapa sebenarnya, 🗿
2026-10-30 09:40:56
1
arbush.hilang
ARBUZ :
yayang gasi🗿
2026-10-19 08:58:54
2
user1409504762471
BERNARDO :
Linda princesita 🥰😍
2026-10-21 15:22:38
2
archzhe0
Arch :
Bru buka TT Lo ga🗿
2026-10-19 17:18:22
1
ayujt
Ayaka :
mantap gila kamu nih
2026-10-19 03:44:41
2
hosino472
SHADOW👋 😜 :
😍
2026-10-18 09:21:53
2
ayujt
Ayaka :
aku sampai buat ini gimana menurutmu
2026-10-19 03:46:06
2
ruoxidc
𝐫𝐮𝐨𝐱𝐢𝐜𝐨𝐬 :
mampir
2026-10-21 04:20:25
1
li.lei383
李磊 (Dhaud) :
😋
2026-10-18 03:18:58
2
kuzekun983
★マシャチカ・クゼ★ :
😋😋😋
2026-10-18 06:46:08
2
slametriyadi026
Sorata 770 :
😁😁😁
2026-10-18 07:44:49
2
user2175708006022
𝙆𝙐𝙕𝙀 :
🥰🥰🥰
2026-10-26 10:06:01
1
aldous.tiktok852
Ying Zheng :
🥰🥰🥰
2026-10-24 11:10:51
1
user9243056153490
GAMON1013 :
🥰🥰🥰😝😝
2026-10-21 09:24:48
1
user9243056153490
GAMON1013 :
🥰🥰🥰🥰🥰😜😜😜
2026-10-19 08:57:24
1
user9243056153490
GAMON1013 :
🥰🥰
2026-10-28 03:01:25
0
user6161388296781
เจ้าหมาน้อย💢💢 :
♥️♥️♥️♥️
2026-10-23 22:40:04
1
To see more videos from user @julmin_edit, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دامِ تہذیب ضربِ کلیم اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے ہر ملتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار معانی: دام تہذیب: تہذیب کا جال ۔ مطلب: اس شعر میں اقبال نے طنز کے طور پر کہا ہے کہ مجھے یورپ والوں کی شرافت پر کوئی شک نہیں ۔ وہ اس خصوصیت کی بنا پر دنیا کی ہر مظلوم قوم کے خریدار اور ہمدرد بن جاتے ہیں ۔ لیکن جب ان پر قابو پا لیتے ہیں تو یہی شریف لوگ مفتوحہ علاقوں میں شیطانی تہذیب پھیلا دیتے ہیں ۔ یہ پیرِ کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار معانی: پیر کلیسا: عیسائی پادری ۔ کرامت: اعجاز ۔ منور: روشن ۔ افکار: خیالات ۔ مطلب: اسے عیسائی پادریوں کا اعجاز سمجھیں کہ انھوں نے مفتوحہ قوموں کے لوگوں کے خیالات کو بجلی کے چراغوں یعنی تہذیب جدید سے روشن کیا ہے ۔ اور ترقی کے بھیس میں عیسائیت بھی پھیلائی ہے اور لوگوں کے خیالات کو تبدیل کر کے تہذیب مغرب کا گرویدہ بھی بنایا ہے ۔ جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہَ دشوار معانی: عقدہَ دشوار: مشکل گرہ ۔ تدبیر سے: عقل سے ۔ مطلب: فلسطین اور شام کے ملک پہلی جنگ عظیم سے پہلے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے لیکن مغربی اقوام نے ترکوں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کر کے اور ان کو ظالم ثابت کر کے عربوں کو ترکوں سے آزاد ہونے کا مشورہ دیا لیکن جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست کے بعد خود ان ملکوں پر قابض ہو گئے ۔ اس پس منظر میں علامہ کہتے ہیں کہ میرا دل شام اور فلسطین میں جو کچھ ہوا ہے اس پر جل رہا ہے ۔ یہ ایک ایسی مشکل گرہ ہے جس عقل کے ناخن سے نہیں کھولی جا سکتی کیونکہ اس میں سراسر دھوکہ اور فریب کا عمل دخل ہے ۔ تُرکانِ جفا پیشہ، کے پنجے سے نکل کر بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار معانی: ترکان جفا پیشہ: وہ ترک قوم جسے انگریز عربوں پر ظلم کرنے والا بتاتے ہیں ۔ مطلب: اقبال نے اس آخری شعر میں اہل مغرب کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک تو عربوں پر ظلم کرنے والے تھے لیکن ہوا کیا ۔ پہلی جنگ عظیم میں عرب ترکوں سے آزاد ہونے کے لیے ان کے خلاف اٹھ تو کھڑے ہوئے لیکن جب ترک شکست کھا گئے تو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے شام اور فلسطین پر اور عربوں کے دوسرے ممالک پر قبضہ کر لیا اور بے چارے عرب ترکوں کی حکمرانی سے نکل کر مغربی اقوام کی حکمرانی میں آ گئے اور انھوں نے اپنی حکمرانی کے بعد ان میں ایسی شیطانی تہذیب پھیلائی کہ نہ وہ سیاسی طور پر آزاد رہ سکے اور نہ تہذیبی طور پر ۔ . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqbal #urdupoetry #poetry #shayari #rekhta
دامِ تہذیب ضربِ کلیم اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے ہر ملتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار معانی: دام تہذیب: تہذیب کا جال ۔ مطلب: اس شعر میں اقبال نے طنز کے طور پر کہا ہے کہ مجھے یورپ والوں کی شرافت پر کوئی شک نہیں ۔ وہ اس خصوصیت کی بنا پر دنیا کی ہر مظلوم قوم کے خریدار اور ہمدرد بن جاتے ہیں ۔ لیکن جب ان پر قابو پا لیتے ہیں تو یہی شریف لوگ مفتوحہ علاقوں میں شیطانی تہذیب پھیلا دیتے ہیں ۔ یہ پیرِ کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار معانی: پیر کلیسا: عیسائی پادری ۔ کرامت: اعجاز ۔ منور: روشن ۔ افکار: خیالات ۔ مطلب: اسے عیسائی پادریوں کا اعجاز سمجھیں کہ انھوں نے مفتوحہ قوموں کے لوگوں کے خیالات کو بجلی کے چراغوں یعنی تہذیب جدید سے روشن کیا ہے ۔ اور ترقی کے بھیس میں عیسائیت بھی پھیلائی ہے اور لوگوں کے خیالات کو تبدیل کر کے تہذیب مغرب کا گرویدہ بھی بنایا ہے ۔ جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہَ دشوار معانی: عقدہَ دشوار: مشکل گرہ ۔ تدبیر سے: عقل سے ۔ مطلب: فلسطین اور شام کے ملک پہلی جنگ عظیم سے پہلے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے لیکن مغربی اقوام نے ترکوں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کر کے اور ان کو ظالم ثابت کر کے عربوں کو ترکوں سے آزاد ہونے کا مشورہ دیا لیکن جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست کے بعد خود ان ملکوں پر قابض ہو گئے ۔ اس پس منظر میں علامہ کہتے ہیں کہ میرا دل شام اور فلسطین میں جو کچھ ہوا ہے اس پر جل رہا ہے ۔ یہ ایک ایسی مشکل گرہ ہے جس عقل کے ناخن سے نہیں کھولی جا سکتی کیونکہ اس میں سراسر دھوکہ اور فریب کا عمل دخل ہے ۔ تُرکانِ جفا پیشہ، کے پنجے سے نکل کر بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار معانی: ترکان جفا پیشہ: وہ ترک قوم جسے انگریز عربوں پر ظلم کرنے والا بتاتے ہیں ۔ مطلب: اقبال نے اس آخری شعر میں اہل مغرب کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک تو عربوں پر ظلم کرنے والے تھے لیکن ہوا کیا ۔ پہلی جنگ عظیم میں عرب ترکوں سے آزاد ہونے کے لیے ان کے خلاف اٹھ تو کھڑے ہوئے لیکن جب ترک شکست کھا گئے تو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے شام اور فلسطین پر اور عربوں کے دوسرے ممالک پر قبضہ کر لیا اور بے چارے عرب ترکوں کی حکمرانی سے نکل کر مغربی اقوام کی حکمرانی میں آ گئے اور انھوں نے اپنی حکمرانی کے بعد ان میں ایسی شیطانی تہذیب پھیلائی کہ نہ وہ سیاسی طور پر آزاد رہ سکے اور نہ تہذیبی طور پر ۔ . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqbal #urdupoetry #poetry #shayari #rekhta

About