@qunh.nhi157: #review #reviewphim #phimhay #phimhaymoingay #xuhuong

Quỳnh Nhi
Quỳnh Nhi
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 26 October 2026 03:09:31 GMT
10104
348
4
4

Music

Download

Comments

ngtu279
༎ຶ☞Bố Đơn Thân☜༎ຶ :
ba tập chỉ có một phần [Ngây thơ][Ngây thơ]
2026-10-26 10:21:57
1
quocbaolc
Cường usd Lc :
Hay . Đi Làm Chứ Đi Nghỉ Khách Sạn đâu .
2026-10-26 13:01:13
0
nguyn.phi.nguyn5
nguyên phi nguyên :
🥰
2026-10-26 06:01:03
0
bi.mnh747
Mạnh khỉ :
.
2026-10-26 11:41:17
0
To see more videos from user @qunh.nhi157, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک دور تھا جب دین کے نام پر لب کھولنا جرم تھا۔ سوال کرنا گستاخی تھی، دلیل مانگنا بے ادبی تھی، منبروں پر بیٹھے ٹھیکیداروں نے دین کو اپنی جاگیر بنا رکھا تھا، جو باپ دادا سے چلا آ رہا ہے وہی حق ہے، اس کے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو تم گمراہ، تم گستاخ، تم فتنہ! لوگوں کو سوچنے سے ڈرایا گیا، ڈرا کر غلام بنایا گیا۔ پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ ایک نوجوان اُٹھا۔ نہ گدی نشین، نہ کسی مدرسے کا مجاور، نہ کسی فرقے کا ترجمان، ہاتھ میں انجینئرنگ کی ڈگری، سینے میں قرآن و سنت کی غیرت، زبان پر فولاد جیسی دلیل۔ اس نے وہ سوال اُٹھا دیا جس سے صدیوں کے بت لرز گئے: دین اللّٰہ کا ہے یا تمہاری دکانوں کا؟ یہ کوئی عام سوال نہیں تھا، اس نے للکار کر کہا: مسلمان بنو، فرقہ پرست نہیں! اللّٰہ کی کتاب کو کھولو، رسول اللّٰہ ﷺ کی سنت کو دیکھو، اندھی تقلید کے طوق گلے سے اتار پھینکو، ناموں، علامتوں اور بزرگوں کے قصوں سے نکل کر دلیل پر آؤ۔ یہی بات ان کو زہر لگی جن کا کاروبار اندھی تقلید پر چلتا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ شور اُٹھا، فتوے لگے، گالیاں دی گئیں، کردار کشی کی گئی، مگر وہ جوان نہ جھکا، نہ بکا، نہ ڈرا۔ اس نوجوان نے ثابت کر دیا کہ سوال کرنا کفر نہیں، علم کا پہلا زینہ ہے، اس نے نوجوان نسل کو بتایا کہ دین مولوی سے نہیں، قرآن و سنت سے پوچھو۔ وہ چاہتا تو اپنی انجینئرنگ کی تعلیم سے لاکھوں کماتا، بیرون ملک عیش کرتا، دنیا کی دوڑ میں سب سے آگے نکل جاتا، مگر اس نے دنیا نہیں، دین کو چنا، اس نے جوانی عیاشی میں نہیں، اس اُمت کو جگانے میں لگائی۔ آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پسند کرے یا نفرت، ایک بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، اس نے سوچ کے مردہ معاشرے میں سوچ کو زندہ کر دیا ہے۔ آج کا نوجوان اندھا مقلد نہیں رہا، وہ پوچھتا ہے دلیل کیا ہے؟ قرآن کیا کہتا ہے؟ حدیث کہاں ہے؟ یہ دین ہے یا تمہارا اپنا بنایا ہوا مذہب؟ اور یہی اس کی سب سے بڑی جیت ہے۔ آج عالم یہ ہے کہ ہر طرف اسی ایک جوان کا نام گونج رہا ہے، آج ہمیں اس کا پورا نام لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، بس زبان سے نکلتا ہے
ایک دور تھا جب دین کے نام پر لب کھولنا جرم تھا۔ سوال کرنا گستاخی تھی، دلیل مانگنا بے ادبی تھی، منبروں پر بیٹھے ٹھیکیداروں نے دین کو اپنی جاگیر بنا رکھا تھا، جو باپ دادا سے چلا آ رہا ہے وہی حق ہے، اس کے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو تم گمراہ، تم گستاخ، تم فتنہ! لوگوں کو سوچنے سے ڈرایا گیا، ڈرا کر غلام بنایا گیا۔ پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ ایک نوجوان اُٹھا۔ نہ گدی نشین، نہ کسی مدرسے کا مجاور، نہ کسی فرقے کا ترجمان، ہاتھ میں انجینئرنگ کی ڈگری، سینے میں قرآن و سنت کی غیرت، زبان پر فولاد جیسی دلیل۔ اس نے وہ سوال اُٹھا دیا جس سے صدیوں کے بت لرز گئے: دین اللّٰہ کا ہے یا تمہاری دکانوں کا؟ یہ کوئی عام سوال نہیں تھا، اس نے للکار کر کہا: مسلمان بنو، فرقہ پرست نہیں! اللّٰہ کی کتاب کو کھولو، رسول اللّٰہ ﷺ کی سنت کو دیکھو، اندھی تقلید کے طوق گلے سے اتار پھینکو، ناموں، علامتوں اور بزرگوں کے قصوں سے نکل کر دلیل پر آؤ۔ یہی بات ان کو زہر لگی جن کا کاروبار اندھی تقلید پر چلتا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ شور اُٹھا، فتوے لگے، گالیاں دی گئیں، کردار کشی کی گئی، مگر وہ جوان نہ جھکا، نہ بکا، نہ ڈرا۔ اس نوجوان نے ثابت کر دیا کہ سوال کرنا کفر نہیں، علم کا پہلا زینہ ہے، اس نے نوجوان نسل کو بتایا کہ دین مولوی سے نہیں، قرآن و سنت سے پوچھو۔ وہ چاہتا تو اپنی انجینئرنگ کی تعلیم سے لاکھوں کماتا، بیرون ملک عیش کرتا، دنیا کی دوڑ میں سب سے آگے نکل جاتا، مگر اس نے دنیا نہیں، دین کو چنا، اس نے جوانی عیاشی میں نہیں، اس اُمت کو جگانے میں لگائی۔ آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پسند کرے یا نفرت، ایک بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، اس نے سوچ کے مردہ معاشرے میں سوچ کو زندہ کر دیا ہے۔ آج کا نوجوان اندھا مقلد نہیں رہا، وہ پوچھتا ہے دلیل کیا ہے؟ قرآن کیا کہتا ہے؟ حدیث کہاں ہے؟ یہ دین ہے یا تمہارا اپنا بنایا ہوا مذہب؟ اور یہی اس کی سب سے بڑی جیت ہے۔ آج عالم یہ ہے کہ ہر طرف اسی ایک جوان کا نام گونج رہا ہے، آج ہمیں اس کا پورا نام لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، بس زبان سے نکلتا ہے "انجینئر" اور سامنے والا خود سمجھ جاتا ہے کہ بات کس کی ہو رہی ہے۔❤️ 𝗪𝗿𝗶𝘁𝗲𝗿: ᴍᴀʀʏᴀᴍ ᴋʜᴏᴋʜᴀʀ✍🏻

About