@ozzyfoundit:

Ozzy Deals
Ozzy Deals
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 27 October 2026 20:38:07 GMT
906
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ozzyfoundit, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بعض لوگ نظرِ بد اتارنے کے لیے خشک مرچیں جلاتے ہیں، بچے کے گلے میں کالا دھاگا باندھتے ہیں، اور گھر کے باہر جوتا لٹکاتے ہیں؟ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظرِ بد کو حقیقت تو قرار دیا، مگر کیا آپ ﷺ نے اس سے بچنے کے لیے کبھی یہ طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی؟ صحیح مسلم کی حدیث 2188 میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نظرِ بد واقعی موجود ہے تو اس سے حفاظت کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ اور یہ مرچیں جلانے اور کالے دھاگے باندھنے کی رسومات کہاں سے آئیں؟ اس کا جواب رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایک واقعے میں ملتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ سے حفاظت مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹوں کے لیے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے۔ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ یعنی میں تم دونوں کو اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان، ہر نقصان پہنچانے والی مخلوق اور ہر بری نظر سے۔ صحیح بخاری، حدیث 3371۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ مانگی۔ اس روایت میں نہ مرچیں جلانے کا ذکر ہے، نہ کالا دھاگا باندھنے کا۔ لیکن پھر یہ رسمیں ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہوئیں؟ برصغیر میں نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے مختلف علامتی چیزیں استعمال کرنے کی پرانی ثقافتی روایات موجود ہیں۔ ان میں کالے دھاگے، مرچیں اور دیگر اشیاء بھی شامل ہیں۔ تاہم ہر رسم کی ابتدا کسی ایک مذہب سے ہوئی ہو، یہ دعویٰ تاریخی ثبوت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ دھاگا یا مرچیں خود اسے غیبی نقصان سے بچا سکتی ہیں، تو یہ عقیدہ اسلامی توحید کے خلاف ہے۔ اور کسی مخصوص رسم کو سنت یا دینی حفاظت کا ثابت شدہ طریقہ کہنا بھی درست نہیں، جب تک اس کی معتبر دلیل موجود نہ ہو۔ اسلام نے ہمیں نظرِ بد سے حفاظت کے لیے اللہ سے دعا، مسنون اذکار اور مشروع دم کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی کہے کہ بچے کو نظر لگ گئی ہے، مرچیں جلاؤ یا کالا دھاگا باندھو، تو اس سے ایک سوال ضرور کیجیے: اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ سے دعا مانگی تھی، تو ہم غیر ثابت رسومات کو دین کا حصہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 2188۔ #viral #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بعض لوگ نظرِ بد اتارنے کے لیے خشک مرچیں جلاتے ہیں، بچے کے گلے میں کالا دھاگا باندھتے ہیں، اور گھر کے باہر جوتا لٹکاتے ہیں؟ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظرِ بد کو حقیقت تو قرار دیا، مگر کیا آپ ﷺ نے اس سے بچنے کے لیے کبھی یہ طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی؟ صحیح مسلم کی حدیث 2188 میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نظرِ بد واقعی موجود ہے تو اس سے حفاظت کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ اور یہ مرچیں جلانے اور کالے دھاگے باندھنے کی رسومات کہاں سے آئیں؟ اس کا جواب رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایک واقعے میں ملتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لیے اللہ سے حفاظت مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹوں کے لیے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے۔ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ یعنی میں تم دونوں کو اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان، ہر نقصان پہنچانے والی مخلوق اور ہر بری نظر سے۔ صحیح بخاری، حدیث 3371۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ مانگی۔ اس روایت میں نہ مرچیں جلانے کا ذکر ہے، نہ کالا دھاگا باندھنے کا۔ لیکن پھر یہ رسمیں ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہوئیں؟ برصغیر میں نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے مختلف علامتی چیزیں استعمال کرنے کی پرانی ثقافتی روایات موجود ہیں۔ ان میں کالے دھاگے، مرچیں اور دیگر اشیاء بھی شامل ہیں۔ تاہم ہر رسم کی ابتدا کسی ایک مذہب سے ہوئی ہو، یہ دعویٰ تاریخی ثبوت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ دھاگا یا مرچیں خود اسے غیبی نقصان سے بچا سکتی ہیں، تو یہ عقیدہ اسلامی توحید کے خلاف ہے۔ اور کسی مخصوص رسم کو سنت یا دینی حفاظت کا ثابت شدہ طریقہ کہنا بھی درست نہیں، جب تک اس کی معتبر دلیل موجود نہ ہو۔ اسلام نے ہمیں نظرِ بد سے حفاظت کے لیے اللہ سے دعا، مسنون اذکار اور مشروع دم کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی کہے کہ بچے کو نظر لگ گئی ہے، مرچیں جلاؤ یا کالا دھاگا باندھو، تو اس سے ایک سوال ضرور کیجیے: اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں کی حفاظت کے لیے اللہ سے دعا مانگی تھی، تو ہم غیر ثابت رسومات کو دین کا حصہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 2188۔ #viral #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic

About