@tokyojapannow: Refusing to unlock your smartphone could now lead to a prison sentence in Japan, even when prosecutors already have the device. A man in his 30s in Tokyo has become the first person indicted under Japan's electronic data order system, introduced in May. He was already facing an immigration-related charge for allegedly submitting false information in a foreign national's residence status application. Prosecutors seized his smartphone but could not access its contents without the password. A prosecutor then obtained a warrant from the Tokyo Summary Court ordering him to provide the phone's recorded data, potentially including messages, calls, and location information. He refused, prompting an additional charge. The penalty can reach one year in prison or a ¥3 million fine. In September, his lawyers argued before the Tokyo District Court that the order was invalid and that his refusal was protected by constitutional rights. Critics warn that compulsory phone access may violate protections against self-incrimination. Supporters emphasize that judicial authorization is required before such an order can be issued. Should Japanese authorities be allowed to punish someone for refusing to unlock their own smartphone, even with a court warrant?

Japan Now
Japan Now
Open In TikTok:
Region: JP
Sunday 01 November 2026 02:07:00 GMT
23444
92
3
22

Music

Download

Comments

peace0168
Peace :
Time to go back to Nokia
2026-11-01 03:17:50
2
mazsuph33r0
Mazu0 :
2026-11-01 02:22:35
0
djaka.barry93
Djaka barry :
😳😳😳
2026-11-01 02:50:26
0
To see more videos from user @tokyojapannow, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج پشاور کور کمانڈر ہاؤس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا نوجوانوں کے حوالے سے ایک پروگرام DG ISPR) منعقد کیا گیا تھا، جس میں میں نے بطور ایک نوجوان شرکت کی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے سامنے اپنے سوالات رکھے۔ میں ان تمام سوالات کی تفصیل اور ان کے جوابات کی : صورتحال کچھ یوں پیش کرتا ہوں پہلا سوال سر! میرا پہلا سوال یہ ہے کہ سوال کرنے کے بعد کہیں مجھے اٹھایا تو نہیں جائے گا...؟ جواب اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ دوسرا سوال آپ نے کہا تھا کہ یہ وسائل آپ کو جہیز میں ملے ہیں؟ اس سر زمین کے مالک ہم ہیں اور آپ اس کے تحفظ کرنے والے ہیں، لہذا خود کو مالک اور ہمیں غلام نہ سمجھیں۔ جواب: یہ وسائل قوم کے ہیں، سیاسی لوگ کیوں اس کا ٹھیکیدار بنیں؟ قوم کے وسائل پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ تیسرا سوال: آپ کہتے ہیں کہ میرا یا فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، لیکن آپ نے عمران خان کو ذہنی مریض منظور پشتین کو غدار اور ماہ رنگ کو انڈیا کا ایجنٹ قرار دیا چوتھا سوال مریم نواز کس جواز سے کہتی ہیں کہ پنجاب کو پڑوسی ملک سے کم اور پڑوسی صوبے سے زیادہ خطرہ ہے؟ جواب: اس سوال پر بھی کوئی واضح جواب نہیں ملا پانچواں سوال جہاں وسائل ہیں، وہاں مسائل کیوں ہیں...؟ جواب بات یہاں سے شروع کی گئی کہ سعودی عرب میں بھی وسائل ہیں وہاں تو دہشت گردی ہے۔ میں نے ڈائریکٹ پوچھا کہ سر آپ پاکستان (اس پر)
آج پشاور کور کمانڈر ہاؤس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا نوجوانوں کے حوالے سے ایک پروگرام DG ISPR) منعقد کیا گیا تھا، جس میں میں نے بطور ایک نوجوان شرکت کی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے سامنے اپنے سوالات رکھے۔ میں ان تمام سوالات کی تفصیل اور ان کے جوابات کی : صورتحال کچھ یوں پیش کرتا ہوں پہلا سوال سر! میرا پہلا سوال یہ ہے کہ سوال کرنے کے بعد کہیں مجھے اٹھایا تو نہیں جائے گا...؟ جواب اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ دوسرا سوال آپ نے کہا تھا کہ یہ وسائل آپ کو جہیز میں ملے ہیں؟ اس سر زمین کے مالک ہم ہیں اور آپ اس کے تحفظ کرنے والے ہیں، لہذا خود کو مالک اور ہمیں غلام نہ سمجھیں۔ جواب: یہ وسائل قوم کے ہیں، سیاسی لوگ کیوں اس کا ٹھیکیدار بنیں؟ قوم کے وسائل پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ تیسرا سوال: آپ کہتے ہیں کہ میرا یا فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، لیکن آپ نے عمران خان کو ذہنی مریض منظور پشتین کو غدار اور ماہ رنگ کو انڈیا کا ایجنٹ قرار دیا چوتھا سوال مریم نواز کس جواز سے کہتی ہیں کہ پنجاب کو پڑوسی ملک سے کم اور پڑوسی صوبے سے زیادہ خطرہ ہے؟ جواب: اس سوال پر بھی کوئی واضح جواب نہیں ملا پانچواں سوال جہاں وسائل ہیں، وہاں مسائل کیوں ہیں...؟ جواب بات یہاں سے شروع کی گئی کہ سعودی عرب میں بھی وسائل ہیں وہاں تو دہشت گردی ہے۔ میں نے ڈائریکٹ پوچھا کہ سر آپ پاکستان (اس پر) "کے ڈی جی آئی ایس پی ہیں، سعودی عرب کے نہیں۔ اس کے بعد پھر میرے سوال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور پرفیکٹ جواب نہیں دیا گیا۔ آر اس پر میں نے انہیں پشتو کا ایک ضرب المثل پیش کیا ""وہم دی کم ځی تو خوږیګی دی کم ځی چھٹا سوال: مولانا خان زیب اور ریحان زیب کو کس نے اور کیوں شہید کیا؟ ہی نہ جواب ایسا نظر انداز کیا گیا جیسے انہوں نے سنا ہو۔ حالانکہ سارے ہال کے نوجوان شور مچا رہے تھے کہ آخری سوال کا جواب دیا جائے، مگر کچھ نہیں کہا گیا۔ میرے ان سارے سوالات کے بعد مجھے اسٹیج پر بلایا کہ گیا اور جواب دینا شروع کیے گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کچھ سوالات کو بالکل اگنور نظر انداز کر دیا گیا اور جن کے جواب دیے گئے ان کا سوال کے ساتھ کوئی خاص واسطہ نہیں تھا 156جواب: اس سوال کا کوئی مناسب یا براه راست جواب نہیں دیا گیا)

About