@pathani8994: کوئی ایسا بھی درد ہوتا جسے آنسوؤں کے ساتھ بہا کر ہلکا کیا جا سکتا... مگر کچھ زخم اتنے گہرے اور ناسور ہوتے ہیں کہ سانس لینا بھی عذاب بن جاتا ہے۔ یہ جدائی کی اداس شام اور تنہائی کا یہ طویل سفر، جہاں دل اور روح دونوں ہی اپنے ہونے کی گواہی ہار جاتے ہیں۔ میں تمہیں وہ عذابِ جاں کیسے سناؤں جس کے بعد تمہیں گلے لگانا اس دنیا کی سب سے بڑی مجبوری بن جاتا ہے، مگر تم اتنے دور ہوتے ہو کہ بس دونوں ہاتھوں سے سینے کو پیٹنا ہی مقدر رہ جاتا ہے! یار غمِ فراق کی یہ کیسی آگ ہے جو اندر ہی اندر سب کچھ راکھ کر رہی ہے، اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ وہ لمحے جب اپنوں کی موجودگی میں بھی روح اکیلی اور بے یارو مددگار رہ جاتی ہے، بس خاموشی کے کفن میں لپٹی سسکیاں ہی باقی بچتی ہیں۔ کاश کوئی میری اس روح کی چیخ کو سن لیتا، کوئی آ کر اس تڑپتی ہوئی خاموشی کو سمجھ لیتا، کہ اب اس درد کے بوجھ سے سانسوں کی ڈور ٹوٹنے کو ہے! 💔🥀😭