@..d3ad.angel: #elephant2003 #zerohour #zero #day #zerohour2004

ᴨᴩинцᴇᴄᴄᴀ ᴋᴇнни²⁷
ᴨᴩинцᴇᴄᴄᴀ ᴋᴇнни²⁷
Open In TikTok:
Region: DE
Tuesday 03 November 2026 16:46:57 GMT
3938
979
42
193

Music

Download

Comments

darksouls273
￴￴￴ :
пж поболшье видео
2026-11-05 12:07:06
1
qw1tyx1_tf2
doomed🪖 :
нельзя
2026-11-04 22:40:29
1
hofllllatralpol2
kiposun🇮🇸 :
привет
2026-11-03 16:58:31
2
fish5962
😎 :
вы самый лучший человек в этом мире
2026-11-03 20:17:16
11
o000oo0o00o
#@!%^$ :
я тебя люблю
2026-11-03 20:55:43
1
julysuicide
julysu1c1de :
ОМАГАД как давно я тебя не видела😭😭😭
2026-11-04 12:32:22
1
narkotesterqqq
нᴀᴩᴋᴏᴛᴇᴄᴛᴩ||🪖 :
нет
2026-11-03 17:07:57
3
stultus_xp
$ϮƲⱢϮƲ$$$ :
так она открыта была
2026-11-05 09:55:20
1
nevvr81
{ ᡕᠵデᡁ᠊╾━ } 🪖 :
А куда..
2026-11-04 11:13:33
2
vodkagod0
Сеня[🇮🇱] :
2026-11-03 17:04:12
3
vodochka_1999
reb⌯☭ :
беспалевность
2026-11-04 05:40:55
2
fuck1nnefr_
ᡕᠵデᡁ᠊╾━ :
ТЫ ЧЁ ТВОРИШЬ ХАХАХА
2026-11-03 18:10:09
3
foidslayer_146
FoidSlayer🪖💥 :
локальный звук
2026-11-03 16:58:14
1
artemka22852
Temych⁵³ :
шо вы творите ребятки???
2026-11-03 22:36:47
1
vinoicv
Waitel🐇 :
я проснулся, мне кажется только для этого
2026-11-05 04:31:16
1
kliffnya
клифф лифонова :
как же я люблю твои видео.а в кабину нет нельзя
2026-11-04 12:43:03
1
linkalol13
linka :
отказано
2026-11-03 17:01:09
2
areyou911213
Teddy⋆.𐙚 :
Нельзя
2026-11-03 16:58:57
1
susihui52
꧁༒☬ϟϟcꭼꮮϟϟ☬༒꧂ :
2026-11-04 10:27:29
1
purgen51
Sara ㅠㅡㅠ🪖 :
низч
2026-11-05 20:22:26
0
kaimperoir
kaimperreb 🫍 :
Как сука выйти из этого фд
2026-11-03 18:32:45
0
lainlanza
L A I N L A N Z A :
бляяя
2026-11-03 23:49:31
1
popljji_1999
Чьпа🪖 :
как ему отослать[Трогательно]
2026-11-03 17:29:14
2
nenavistxp
никита лыткин :
пусти в кабину
2026-11-04 05:09:08
1
To see more videos from user @..d3ad.angel, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اوتھل کی تاریخ کی بڑی بینک ڈکیتی کا ڈراپ سین، 20 کروڑ لوٹنے والے پانچوں ملزمان یونیورسٹی کے طالبعلم نکلے، ماسٹر مائنڈ سمیت 3 گرفتار اوتھل (بیورو رپورٹ: امید علی گچکی) لسبیلہ پولیس نے ڈیڑھ سال بعد اوتھل نیشنل بینک کی تقریباً 20 کروڑ روپے کی تاریخی ڈکیتی کا معمہ حل کر لیا، ماسٹر مائنڈ سمیت 3 ملزمان گرفتار، ایک اکاؤنٹ سے 17 کروڑ کی ٹرانزیکشن کا انکشاف۔ ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے اوتھل میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2025 میں صبح ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے درمیان نیشنل بینک اوتھل سے تقریباً 20 کروڑ روپے کی ڈکیتی ہوئی تھی۔ واردات کے دوران مزاحمت پر اس وقت کے ایس ایچ او اوتھل یار محمد کمانڈو کو دو گولیاں ماری گئیں، جس سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ *ایس ایس پی کے مطابق واردات میں ملوث پانچوں افراد لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز کے طالبعلم یا سابق طالبعلم ہیں۔* جن کے نام زوہیب، بلال اکرم، مرتضیٰ، جبار اور بلال حمید ہیں۔ ان میں مرکزی ملزم زوہیب اس واردات کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پولیس کے مطابق زوہیب کے خلاف پہلے سے سورس انفارمیشن موجود تھی جس پر اسے گرفتار کیا گیا، قبضے سے ایک ناجائز بندوق بھی برآمد ہوئی۔ دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ واردات 5 ساتھیوں نے مل کر کی اور لوٹی گئی رقم آپس میں تقسیم کی۔ *اہم انکشافات:* *1. گاڑی کا رنگ تبدیل:* ملزمان نے واردات میں سفید رنگ کی گاڑی استعمال کی اور بعد میں شناخت چھپانے کے لیے اسے کالا کر دیا۔ *2. آن لائن وردیاں:* واردات میں استعمال ہونے والی وردیاں آن لائن منگوائی گئی تھیں۔ *3. 17 کروڑ کی ٹرانزیکشن:* ڈکیتی سے قبل مرکزی ملزم زوہیب کے اکاؤنٹ میں صرف ہزاروں روپے کی ٹرانزیکشن ہوتی تھی، مگر ڈیڑھ سال کے دوران اسی اکاؤنٹ سے 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔ *4. کرشنا کے ذریعے پونے 3 کروڑ کی منتقلی:* ملزمان اوتھل کے کاروباری شخص کرشنا کو نقد رقم دیتے تھے جو اپنے اکاؤنٹ سے آگے منتقل کرتا تھا۔ کرشنا نے اعتراف کر لیا ہے اور دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے روبرو بیان بھی ریکارڈ کروا دیا ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے کچھ رقم برآمد کر لی گئی ہے، موبائل فونز فرانزک کے لیے PFSA پنجاب بھجوائے جا رہے ہیں اور بعض گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ رقم مختلف جگہوں پر سرمایہ کاری میں لگائی گئی ہے جس کا سراغ بینک اسٹیٹمنٹس سے لگایا جا رہا ہے۔ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، جن میں جبار، بلال حمید اور زوہیب کا بھائی یار محمد بھی شامل ہیں، تاہم تفتیش کی حساسیت کے باعث مزید تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ ایس ایس پی لسبیلہ نے کہا کہ
اوتھل کی تاریخ کی بڑی بینک ڈکیتی کا ڈراپ سین، 20 کروڑ لوٹنے والے پانچوں ملزمان یونیورسٹی کے طالبعلم نکلے، ماسٹر مائنڈ سمیت 3 گرفتار اوتھل (بیورو رپورٹ: امید علی گچکی) لسبیلہ پولیس نے ڈیڑھ سال بعد اوتھل نیشنل بینک کی تقریباً 20 کروڑ روپے کی تاریخی ڈکیتی کا معمہ حل کر لیا، ماسٹر مائنڈ سمیت 3 ملزمان گرفتار، ایک اکاؤنٹ سے 17 کروڑ کی ٹرانزیکشن کا انکشاف۔ ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے اوتھل میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2025 میں صبح ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے درمیان نیشنل بینک اوتھل سے تقریباً 20 کروڑ روپے کی ڈکیتی ہوئی تھی۔ واردات کے دوران مزاحمت پر اس وقت کے ایس ایچ او اوتھل یار محمد کمانڈو کو دو گولیاں ماری گئیں، جس سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ *ایس ایس پی کے مطابق واردات میں ملوث پانچوں افراد لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز کے طالبعلم یا سابق طالبعلم ہیں۔* جن کے نام زوہیب، بلال اکرم، مرتضیٰ، جبار اور بلال حمید ہیں۔ ان میں مرکزی ملزم زوہیب اس واردات کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پولیس کے مطابق زوہیب کے خلاف پہلے سے سورس انفارمیشن موجود تھی جس پر اسے گرفتار کیا گیا، قبضے سے ایک ناجائز بندوق بھی برآمد ہوئی۔ دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ واردات 5 ساتھیوں نے مل کر کی اور لوٹی گئی رقم آپس میں تقسیم کی۔ *اہم انکشافات:* *1. گاڑی کا رنگ تبدیل:* ملزمان نے واردات میں سفید رنگ کی گاڑی استعمال کی اور بعد میں شناخت چھپانے کے لیے اسے کالا کر دیا۔ *2. آن لائن وردیاں:* واردات میں استعمال ہونے والی وردیاں آن لائن منگوائی گئی تھیں۔ *3. 17 کروڑ کی ٹرانزیکشن:* ڈکیتی سے قبل مرکزی ملزم زوہیب کے اکاؤنٹ میں صرف ہزاروں روپے کی ٹرانزیکشن ہوتی تھی، مگر ڈیڑھ سال کے دوران اسی اکاؤنٹ سے 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔ *4. کرشنا کے ذریعے پونے 3 کروڑ کی منتقلی:* ملزمان اوتھل کے کاروباری شخص کرشنا کو نقد رقم دیتے تھے جو اپنے اکاؤنٹ سے آگے منتقل کرتا تھا۔ کرشنا نے اعتراف کر لیا ہے اور دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے روبرو بیان بھی ریکارڈ کروا دیا ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے کچھ رقم برآمد کر لی گئی ہے، موبائل فونز فرانزک کے لیے PFSA پنجاب بھجوائے جا رہے ہیں اور بعض گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ رقم مختلف جگہوں پر سرمایہ کاری میں لگائی گئی ہے جس کا سراغ بینک اسٹیٹمنٹس سے لگایا جا رہا ہے۔ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، جن میں جبار، بلال حمید اور زوہیب کا بھائی یار محمد بھی شامل ہیں، تاہم تفتیش کی حساسیت کے باعث مزید تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ ایس ایس پی لسبیلہ نے کہا کہ "لسبیلہ پولیس عوام کی پولیس ہے، جرم کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو، پولیس پیچھا نہیں چھوڑتی۔ افسوس ہے کہ 24 سے 26 سال کے نوجوانوں نے اپنی توانائی تعلیم اور حلال روزگار کے بجائے ڈکیتی میں ضائع کی جو پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔" پریس کانفرنس میں ڈی ایس پی سرکل اوتھل راحق علی شاہ، ایس ایچ او اوتھل عبدالوحید مگسی، ایس ایچ او بیلہ یار محمد کمانڈو، سب انسپکٹر حافظ عبدالرزاق رونجھو، سب انسپکٹر نذیر احمد رونجھو، پی آر او بشیر احمد رونجھو اور اے ایس آئی محمد ہاشم شاہوک بھی موجود تھے۔

About