@homidiy:

ابوعبد الله
ابوعبد الله
Open In TikTok:
Region: SA
Thursday 05 November 2026 11:01:48 GMT
2570
13
4
35

Music

Download

Comments

mtfal13
متفائل73/ user956609 :
كفو عليكم من زمان وانا اقترح ذالك عام١٤٠٧
2026-11-05 15:05:48
0
user6859195220352
ابو محمد :
2026-11-05 13:19:13
0
alabolian1_506
alabolian1_506 :
❤️
2026-11-05 14:44:45
0
To see more videos from user @homidiy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ظلم کی انتہا، گزشتہ شب ہمارے خاندان پر قیامت ڈھا دی گئی۔ گزشتہ رات 9:20 بجے سے 12:45 بجے تک ملاکنڈ انتظامیہ کے اہلکاروں، نقاب پوش اہلکاروں اور نامعلوم افراد پر مشتمل تقریباً 50 سے 70 افراد، 15 سے 25 گاڑیوں کے ہمراہ میرے گھر، حجرے، اور میرے  بھائیوں، چچا زاد اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارتے رہے۔ گھروں کے دروازوں اور تالوں کو توڑا گیا۔ بیرونِ ملک مقیم بھائیوں کے گھروں کے تالے توڑے گئے، اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا گیا۔ گھر میں نصب تمام سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے گئے اور تین گھروں کے ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور قابلِ مذمت پہلو یہ ہے کہ میرے ضعیف العمر والدہ، جو کینسر کی مریضہ ہیں اور جن کے دل میں دو اسٹنٹ ڈالے جا چکے ہیں، اب اوپن ہارٹ سرجری کی منتظر ہیں، ان کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ معذور کزن کو زمین پر گرا دیا گیا، جبکہ نویں جماعت میں زیرِ تعلیم ان کی بھتیجی کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔ آخر ایک بزرگ، بیمار خاتون، بچوں اور معذور افراد کا کیا قصور تھا؟ انہیں سردی میں بے گھر کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور مبینہ طور پر لاٹھیوں سے تشدد کرنا نہ صرف انسانی اقدار بلکہ قانون اور پشتون روایات کے بھی منافی ہے۔ اس کارروائی میں میرے بھائی محمد اکرام غازی اور  بھتیجے کو بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا اس ملک میں منتخب عوامی نمائندوں اور عام شہریوں کے گھروں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق کا کوئی احترام باقی نہیں رہا؟
ظلم کی انتہا، گزشتہ شب ہمارے خاندان پر قیامت ڈھا دی گئی۔ گزشتہ رات 9:20 بجے سے 12:45 بجے تک ملاکنڈ انتظامیہ کے اہلکاروں، نقاب پوش اہلکاروں اور نامعلوم افراد پر مشتمل تقریباً 50 سے 70 افراد، 15 سے 25 گاڑیوں کے ہمراہ میرے گھر، حجرے، اور میرے بھائیوں، چچا زاد اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارتے رہے۔ گھروں کے دروازوں اور تالوں کو توڑا گیا۔ بیرونِ ملک مقیم بھائیوں کے گھروں کے تالے توڑے گئے، اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا گیا۔ گھر میں نصب تمام سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے گئے اور تین گھروں کے ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور قابلِ مذمت پہلو یہ ہے کہ میرے ضعیف العمر والدہ، جو کینسر کی مریضہ ہیں اور جن کے دل میں دو اسٹنٹ ڈالے جا چکے ہیں، اب اوپن ہارٹ سرجری کی منتظر ہیں، ان کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ معذور کزن کو زمین پر گرا دیا گیا، جبکہ نویں جماعت میں زیرِ تعلیم ان کی بھتیجی کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔ آخر ایک بزرگ، بیمار خاتون، بچوں اور معذور افراد کا کیا قصور تھا؟ انہیں سردی میں بے گھر کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور مبینہ طور پر لاٹھیوں سے تشدد کرنا نہ صرف انسانی اقدار بلکہ قانون اور پشتون روایات کے بھی منافی ہے۔ اس کارروائی میں میرے بھائی محمد اکرام غازی اور بھتیجے کو بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا اس ملک میں منتخب عوامی نمائندوں اور عام شہریوں کے گھروں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق کا کوئی احترام باقی نہیں رہا؟

About