@hisyam550: #cctvmercusys #outdoorcctv

hisyam | hometrovert
hisyam | hometrovert
Open In TikTok:
Region: MY
Friday 26 June 2026 02:53:15 GMT
18
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hisyam550, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

قلعہ سردار سرفراز خان سنجرانی  جیسے لانگو قبیلے کے عظیم سردار  سردارء معظم سردار رسول بخش اول نے امیر قابل سے آزاد کروایا تھا جس میں قابض سردار شیر محمد خان تھے جسے افغانستان کے  امیر  امیر قابل کی سپوٹ حاصل تھی سردار سرفرازخان خان سنجرانی ملک جیہند خان سنجرانی  میر حسن خان سنجرانی کو گرفتار کر کے افغانستان لے گئے تھے اور چاغی پر قابض ہوے تھے ملک جیہند خان سنجرانی اور میر حسن خان سنجرانی کو پانسی دی گئی جہا سے سردار سرفراز خان لڑتے لڑتے افغان قید سے فرار ہوے اور افغانستان سے سیدا منگچر  تشریف لے آئے  سردار رسول بخش لانگو  سے ملاقات ہوہی چاغی کی صورت حال سے آگا کیا سردار سرفراز خان سنجرانی اور لانگو قبیلے کے عظیم سردار سردار معظم سردار رسول بخش خان  لانگو  اپنے لشکر کے ساتھ چاغی روانہ ہوے  چاغی کے میدانی علاقہ ایک چھوٹے سے جنگل نما جگہ میں اپنے جنگجوہوں کو تربیت دی قلعہ کے دیوار کے پہمائش کے مطابق درختوں سے لکڑی کاٹی گئی اور سیڈی بناہی گہئ تو ایک را گذر کی نظر سردار سرفراز خان سنجرانی پہ پڑی اور سردار سرفراز خان سنجرانی کو پہچان لیا راگزر یہ خبر سردار شیر محمد خان تک پہنچانے کلے قلعہ پہنچ گئے اور سردار شیر محمد خان سے کہنے لگے کے جناب میں نے راستے میں سردار سرفراز خان کو دیکھا اس کے ساتھ ایک بہت بڑی لشکر ہے اور بہت سارے جنگجو  سردار شیر محمد غفلت میں پڑ گئے را گزرکی اس خبر کو جھوٹ مان کے را گزر کو گرفتار کیا اور کہنے لگے کے سردار سرفراز خان ملک جیہند اور  میر حسن کو افغانستان میں تو پانسی دی گئی تماری اس خبر میں کوہی صداقت نہیں تو سردار معظم سردار رسول بخش لانگو اور سردار سرفراز خان سنجرانی نے قلعہ پہ حملاور ہوے قلعہ چاغی کو فتح کیا گیا اور قلعے میں سنجرانی قبیلے کے اسیروں کو رہا کیا گیا امیر قابل کو بدترین شکست دے کے چاغی کو افغان ریاست سے آزاد کیا اور آج تک الحمداللہ سنجرانی اور لانگو اپنے بزرگوں کی اس عظیم دوستی اور قربانی کو نہیں بولے ہیں ۔
قلعہ سردار سرفراز خان سنجرانی جیسے لانگو قبیلے کے عظیم سردار سردارء معظم سردار رسول بخش اول نے امیر قابل سے آزاد کروایا تھا جس میں قابض سردار شیر محمد خان تھے جسے افغانستان کے امیر امیر قابل کی سپوٹ حاصل تھی سردار سرفرازخان خان سنجرانی ملک جیہند خان سنجرانی میر حسن خان سنجرانی کو گرفتار کر کے افغانستان لے گئے تھے اور چاغی پر قابض ہوے تھے ملک جیہند خان سنجرانی اور میر حسن خان سنجرانی کو پانسی دی گئی جہا سے سردار سرفراز خان لڑتے لڑتے افغان قید سے فرار ہوے اور افغانستان سے سیدا منگچر تشریف لے آئے سردار رسول بخش لانگو سے ملاقات ہوہی چاغی کی صورت حال سے آگا کیا سردار سرفراز خان سنجرانی اور لانگو قبیلے کے عظیم سردار سردار معظم سردار رسول بخش خان لانگو اپنے لشکر کے ساتھ چاغی روانہ ہوے چاغی کے میدانی علاقہ ایک چھوٹے سے جنگل نما جگہ میں اپنے جنگجوہوں کو تربیت دی قلعہ کے دیوار کے پہمائش کے مطابق درختوں سے لکڑی کاٹی گئی اور سیڈی بناہی گہئ تو ایک را گذر کی نظر سردار سرفراز خان سنجرانی پہ پڑی اور سردار سرفراز خان سنجرانی کو پہچان لیا راگزر یہ خبر سردار شیر محمد خان تک پہنچانے کلے قلعہ پہنچ گئے اور سردار شیر محمد خان سے کہنے لگے کے جناب میں نے راستے میں سردار سرفراز خان کو دیکھا اس کے ساتھ ایک بہت بڑی لشکر ہے اور بہت سارے جنگجو سردار شیر محمد غفلت میں پڑ گئے را گزرکی اس خبر کو جھوٹ مان کے را گزر کو گرفتار کیا اور کہنے لگے کے سردار سرفراز خان ملک جیہند اور میر حسن کو افغانستان میں تو پانسی دی گئی تماری اس خبر میں کوہی صداقت نہیں تو سردار معظم سردار رسول بخش لانگو اور سردار سرفراز خان سنجرانی نے قلعہ پہ حملاور ہوے قلعہ چاغی کو فتح کیا گیا اور قلعے میں سنجرانی قبیلے کے اسیروں کو رہا کیا گیا امیر قابل کو بدترین شکست دے کے چاغی کو افغان ریاست سے آزاد کیا اور آج تک الحمداللہ سنجرانی اور لانگو اپنے بزرگوں کی اس عظیم دوستی اور قربانی کو نہیں بولے ہیں ۔

About